نگران بنانے والے خود اپنے فیصلے سے خوش نہیں ، سردار اختر مینگل
اسلام آباد (این این آئی)سربراہ بی این پی سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ انوارالحق کاکڑ کا تقرر کرنےوالے خود فیصلے سے ناخوش ہیں، وقت آئےگا جب وہ فیصلے پر روئیں گے، نومبر کے بعد انتخابات ہوئے تو آئینی مدت سے نکل جائیں گے،نگراں وزیراعظم کا کام حکومت کی نگرانی کرنا ہے، انڈر ٹیکر جمہوریت کا قبرستان بنادیتے ہیں۔نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سربراہ بی این پی سردار اختر مینگل نے کہا کہ ہم اپنی رائے اور فیصلے کا اظہار کرتے ہیں، بڑی پارٹیوں کے سربراہ نظریہ ضرورت کے تحت خاموش رہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انوارالحق کاکڑ کا تقرر کرنے والے خود اس فیصلے سے ناخوش ہیں، کچھ صبر اور کچھ نظریہ ضرورت کی وجہ سے خاموش ہیں۔انہوں نے کہا کہ وقت آئے گا جب وہ اپنے فیصلے پر روئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے تمام اتحادی رہنماﺅں کو عشائیہ دیا، سابق وزیراعظم نے مشاورت میں انوارالحق کاکڑ کے نام پر اتحادی رہنماﺅں سے بات نہیں کی تھی،نیشنل پارٹی کی جانب سے عبدالمالک بلوچ کا نام آیا تھا، عبدالمالک بلوچ پارٹی کے سربراہ ہیں، الیکشن لڑیں گے، اس لئے ان کا نگراں وزیراعظم بننا مشکل تھا۔انہوں نے کہا کہ نگراں وزیراعظم کا کام حکومت کی نگرانی کرنا ہوتا ہے، انڈر ٹیکر جمہوریت کا قبرستان بنادیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکار کا تقرر کرتے وقت بھی انکوائری کی جاتی ہے، کیا نگران وزیراعظم کی پروفائل چیک کی گئی تھی ؟۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے میرے خط کا جواب نہیں دیا، نہیں معلوم نوازشریف فیصلے پرخوش ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ 90دن کے مطابق نومبر میں انتخابات ہونے چاہئیں، سابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ نومبر میں الیکشن نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نومبر کے بعد انتخابات ہوئے تو آئینی مدت سے نکل جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی آبادی 2کروڑ 14لاکھ دکھائی گئی تھی، مردم شماری کے تحت بلوچستان کی سیٹوں میں اضافہ ہونا تھا،سی سی آئی اجلاس میں وزیراعلی بلوچستان کےلئے 6گھنٹے تاخیر ہوئی، میٹنگ کو الیکشن میں تاخیر کا جواز بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ یہاں فیصلے جلد بازی میں کئے جاتے ہیں، قلیل مدتی فیصلوں کو برسوں بھگتنا پڑتا ہے۔


