چین کا مؤقف اصولی ہے، بھارت کی ہٹ دھرمی سے معاملہ خونی تصادم میں تبدیل ہوا: شاہ محمود

اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے چین اور بھارت کی سرحدی تنازع پر کہا ہے کہ چین کا مؤقف اصولی ہے بھارت کی ہٹ دھرمی سے معاملہ خونی تصادم میں تبدیل ہوچکا ہے۔اپنے ایک بیان میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کچھ دنوں سے چین اور بھارت کے مابین کشمکش بڑھتی دکھائی دے رہی تھی جس پر چین نے کوشش کی کہ معاملہ افہام و تفہیم سے گفتگو کے ذریعے حل ہوجائے جس کے لیے اس کا مؤقف بھی اصولی ہے لیکن بھارت نے بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی چین کی پیشکش کوسنجیدہ نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہی 9 مئی کو چپقلش ہوئی جو خونی تصادم میں تبدیل ہوچکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق 20 سے زیادہ بھارتی فوجیوں، افسران کی اموات ہوچکی ہیں یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے،کئی دہائیوں کے بعد خونی تصادم کی یہ صورت دیکھنے میں آ رہی ہے اور یہ سب بھارت سرکار کی ہندتوا سوچ کا کیا دھرا ہے۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تبت اور لداخ کا 3500 کلومیٹر کا علاقہ بھارت اور چین کا متنازع سرحدی علاقہ ہے، اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہ اسے ہضم کر لے گا تو شاید یہ چین کے لیے قابلِ قبول نہ ہو۔خیال رہے کہ گذشتہ ماہ مشرقی لداخ کے علاقے میں بھارتی اہلکاروں کی چینی فوج سے جھڑپیں ہوئی تھیں جب کہ سرحدی خلاف ورزی پر چین کی جانب سے بھارتی فوجیوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔مشرقی لداخ کی سرحد پر بھارت چین تناؤ برقرار ہے اور مذاکرات کے باوجود کشیدگی کم نہیں کی جا سکی ہے۔علاوہ ازیں بھارت کی جانب سے پاکستان کو دھمکی آمیز بیان پر وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے ہم خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں لیکن اگر بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کیا تو پاکستان ضرور جواب دے گا جیسے فروری میں دی تھا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملات کے حل کی پیشکش کی جسے انہوں نے پس پشت ڈال دیا لیکن اگر بھارت سمجھتا ہے کہ اس کے جارحانہ رویے سے مرعوب ہوں گے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں