علاقائی اخبارات کا 25 فیصد کوٹہ فوری بحال کیا جائے،ایکشن کمیٹی اخباری صنعت
کوئٹہ: ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے زیراہتمام وفاقی حکومت کی جانب سے 25 فیصد کوٹہ کی بحالی‘بلوچستان حکومت کے ذمہ 2017-18 کے بقایا جات کی عدم ادائیگی‘ صوبائی اشتہارات اور خصوصی ڈسپلے اشتہارات میں مقامی اخبارات کو نظر انداز کرنے کیخلاف کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں کوئٹہ پریس کلب‘پی ایف یو جے‘بلوچستان یونین آف جرنلسٹس‘کوئٹہ یونین آف جرنلسٹس‘اے پی این ایس بلوچستان کمیٹی‘بلوچستان ڈیلی نیوز پیپرز ایڈیٹر کونسل‘انجمن اتحاد اخبار فروش فیڈریشن‘انجمن اتحاد اخبار فروشاں بلوچستان کے نمائندوں نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی۔احتجاجی مظاہرے کو کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر محدود رکھا گیا۔اس موقع پر ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے چیئرمین عبدالغفار لانگو کا کہنا تھا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں میڈیا سے متعلق اپنی پالیسیوں پرنظرثانی کریں‘غلط پالیسیوں کی وجہ سے اخبارات و جرائد تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔شعبہ صحافت سے چونکہ پڑھے لکھے لوگ وابستہ ہیں اس لئے تعلیم یافتہ نوجوانوں کا مستقبل بھی داؤ پر لگایا جارہا ہے۔کرونا وائرس سے جہاں دیگر شعبہ جات متاثر ہوئے شعبہ صحافت پر بھی اثرات مرتب ہوئے‘صوبائی حکومت Covid-19 سے متاثر ہونے والے مدیران‘ صحافیوں‘ کارکنان‘اور اخبار فروشوں کیلئے خصوصی پیکیج کا اعلان کرے۔ ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان صنعت کے ہر شعبہ کے مسائل کے حل کیلئے آخری حد تک جانے کو تیار ہے۔ وفاق علاقائی اخبارات کی حق تلفی سے گریز کرتے ہوئے علاقائی اخبارات کا ً 25 فیصد کوٹہ فوری بحال کرے۔بلوچستان حکومت کے ذمہ واجب الادا 2017-18 کے بقایاجات پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی ہدایت کے باوجود کوئی پیشرفت نہیں ہوپارہی جسے ہم حکومت اور پریس کے تعلقات خراب کرنے کی سازش قرار دیتے ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان متعلقہ محکمے کو واجبات کی ادائیگی اور صوبائی اشتہارات میں مقامی اخبارات کو ترجیح دینے کے احکامات جاری کریں۔ اس موقع پر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر ایوب ترین کا کہنا تھا کہ مقامی اخبارات کے مطالبات کے حق میں ان کیساتھ کھڑے ہیں۔صنعت کو نقصان پہنچا تو صوبے کے پڑھے لکھے لوگ ہی متاثر ہونگے اس لئے صوبائی حکومت اخباری صنعت کے مسائل کے حل پر توجہ دے۔ ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے تمام مطالبات برحق ہیں مقامی اخبارات کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔اخباری صنعت سے وابستہ ورکرز اخبارات و جرائد کو درپیش مسائل کی وجہ سے براہ راست متاثر ہورہے ہیں۔بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے ہمیشہ ورکرز کے حق کیلئے آواز بلند کی ہے اور ہمارا موقف ہے کہ ہم غلط پالیسیوں کے نتیجے میں اخباری کارکنان کو بیروزگار کرنے والی ہر سازش کو ناکام بنائینگے۔اس موقع پر ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے جنرل سیکرٹری مرتضیٰ ترین کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پہلے ہی علاقائی اخبارات کو کچھ نہیں ملتا تھا اب تو اعلانیہ طور پر 25فیصد کوٹہ پر باقاعدہ کٹ لگا کر میڈیا دشمن اقدامات کئے جارہے ہیں۔علاقائی اخبارات کیساتھ ایسا سلوک ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے۔ صوبائی حکومت کو بھی اعلیٰ بیورو کریسی کی جانب سے سب اچھا ہے کہ رپورٹ دیدی جاتی ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ان مشکل حالات میں آج کا مظاہرہ اس بات کی غمازی کررہا ہے کہ صوبے کی واحد صنعت تباہی کی طرف دھکیلی جارہی ہے جس کیخلاف آج سے باقاعدہ تحریک شروع کردی گئی ہے۔ صوبائی حکومت فی الفور اخبارات کے بقایاجات کی ادائیگی کو یقینی بنائے اور اشتہارات میں اگر علاقائی اخبارات کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو احتجاج کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد تک وسعت دینے پر مجبور ہونگے۔انہوں نے مزید کہا کہ 2017-18 کے بقایا جات کی عدم ادائیگی اور خصوصی ڈسپلے اشتہارات میں مقامی اخبارات کو نظر انداز اور اخباری مارکیٹ کے مسائل کے حوالے سے ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے زیراہتمام پہلے بھی جدوجہد کرچکے ہیں۔حکومتی وزراء پر مشتمل کمیٹی کی یقین دہانی پر احتجاجی کیمپ ختم کیا گیا تھا لیکن تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوئی اخباری صنعت کے مسائل جوں کے توں ہیں۔آل پاکستان اخبار فروش فیڈریشن کے مرکزی نائب صدر عبدالنبی سمالانی کا کہنا تھا کہ اخباری صنعت کے دیگر شعبوں کی طرح اخبار مارکیٹ میں بھی مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں حکومت کی جانب سے سروے ہونے کے باوجود اخبار مارکیٹ کی مرمت کے کام میں تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔اخبار مارکیٹ کیلئے دی جانیوالی گرانٹ کو بجٹ کا حصہ بنا کر ہرسال جاری کیا جائے‘ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ اخبار مارکیٹ کے اخراجات برداشت کرسکیں۔انہوں نے ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ صنعت کے مسائل کے حوالے سے مطالبات بالکل درست ہیں اخبار فروش فیڈریشن صنعت کی بقاء کیلئے بھرپور ساتھ دینے کی یقین دہانی کراتی ہے ہم آخری حد تک ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کیساتھ کھڑے ہیں۔اس موقع پر ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کے ڈپٹی چیئرمین علی لہڑی کا کہناتھا کہ محکمہ تعلقات عامہ کے شعبہ اشتہارات کا رویہ انتہائی نامناسب اور قابل مذمت ہے جسے ہم برداشت نہیں کرسکتے۔ملک کے دیگر صوبوں میں علاقائی پریس کو اہمیت دی جاتی اور مضبوط کیا جاتا ہے جبکہ یہاں تباہی کے قریب پہنچا دیا گیا ہے جس سے صوبے کے ہزاروں افراد براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ خصوصی ڈسپلے اشتہارات میں صوبائی اخبارات کو نظر انداز کرکے صوبے کے حقیقی پریس کی حق تلفی کی جارہی ہے۔ صوبے سے شائع ہونے والے جرائد کے اشتہارات میں بھی کٹوتی سمجھ سے بالا تر ہے۔صوبائی حکومت اخباری صنعت کے مسائل پر سنجیدگی کا مظٖاہرہ کرتے ہوئے حکومت اور پریس کے تعلقات کو خراب ہونے سے بچائے۔


