کسی غیر قانونی غیر آئینی عمل کا حصہ نہیں بنوں گا ، نگراں وزیراعلی سندھ

کراچی (این این آئی) نگراں وزیراعلی سندھ جسٹس (ر)مقبول باقر کو وزیراعلی ہاو¿س آمد پر گارڈ آف آنر دیا گیا جس میں چیف سیکریٹری سہیل راجپوت، قائم مقام آئی جی پولیس عمران یعقوب منہاس، صوبائی سیکریٹریز اور سینئر پولیس افسران نے شرکت کی۔ چیف سیکرٹری نے نگراں وزیراعلی سے افسران کا تعارف کرایا۔ نگرانںوزیراعلی نے باقاعدہ طور پر اپنا عہدہ سنبھال کر اپنے سرکاری کام کا آغاز کردیا۔جبکہ نگران وزیر اعلی سندھ جسٹس (ر)مقبول باقر نے کہا ہے کہ انتخابات کی تاریخ کا تعین کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، ہمارا فرض ہے کہ ہم انکی معاونت کریں لیکن میں یقینی طور پر کسی غیرآئینی یا غیرقانونی عمل کا حصہ ہرگز نہیں بنوں گا۔ یہ بات انھوں نے مزار قائد پر حاضری کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے کہا کہ نگران وزرا کے حوالے سے مشاورت جاری ہے ، کچھ لوگوں سے ملاقاتیں بھی شروع کردی ہیں اور بہت آپ پیشرفت دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں چند نام آئیں گے، اس کے بعد مزید نام آئیں گے، ہماری کوشش ہوگی کہ بہت بڑی نگران کابینہ نہ ہو اور کوشش یہی ہے کہ بہتر سے بہتر لوگوں کو چنا جا سکے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی بہتری کیلئے دو تین چیزیں ضروری ہیں، اگر آئین اور قانون کی بالادستی ہو گی تو بہتری خوبخود آئے گی، اگر ہم آئین اور قانون سے ہٹیں گے تو کچھ بہتر نہیں ہو سکتا۔ الیکشن کے ممکنہ التوا کے حوالے سے نگران وزیر اعلی نے کہا کہ ہم قبل از وقت بے بنیاد خدشات نہ پالیں، انتخابات کی تاریخ کا تعین کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، ہمارا فرض ہے کہ ہم انکی معاونت کریں لیکن یقینی طور پر کسی غیرآئینی یا غیرقانونی عمل کا حصہ میں نہیں بنوں گا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعلی نے کہا کہ مجھے کہیں سے ایسا عندیا نہیں ملا کہ صوبوں اور وفاق میں احتساب کا عمل شروع ہو رہا ہے، احتساب میرا بھی ہونا چاہیے، آپ کا بھی ہونا چاہیے، سرکاری اہلکاروں کا بھی ہونا چاہیے لیکن قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کیا جانا چاہیے اور یہ محض ان اداروں کو کرنا چاہیے جو اس کے مجاز ہیں۔ مزید کہا کہ احتساب کا عمل نیک نیتی سے ہونا چاہیے، ہماری 76سالہ تاریخ میں یہ لاحاصل رہا ہے، اس قسم کے حربے کام نہیں کرتے۔ انہوں نے کہاکہ سندھ کے علاقے رانی پور میں کمسن گھریلو ملازمہ کی موت جیسے واقعات تشویش اور شرمندگی کا باعث ہیں، اس کے علاوہ جڑانوالہ میں جو ہوا وہ بھی انتہائی تشویش کی بات ہے، ان کے دکھ درد میں اضافہ ہوا اور چرچ کو آگ لگانا بذات خود انتہائی قابل مذمت عمل ہے، آپ نے ملک کی بنیادوں میں آگ لگانے کی کوشش کی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہ جہاں بھی ضرورت ہوگی وہاں تبادلے کئے جائیں ، الیکشن کمیشن کو توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ ہم بلاجواز کوئی تبادلے کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا آئین، قانون اور اصولوں کے علاوہ ہم پر کسی قسم کا کوئی دبا نہیں اور نہ ہی کوئی سیاسی دبا قبول کریں گے۔ وزیراعلی جسٹس (ر) مقبول باقر نے کہا کہ میں الیکشن کمیشن کی کارروائی میں کسی بھی شکل اور انداز میں مداخلت نہیں کر سکتا لیکن میں یہ کر سکتا ہوں کہ اس عمل کا حصہ نہ بنوں جو آئین و قانون کے مطابق نہیں ہے۔قبل ازیں نگران وزیر اعلی سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے مزار قائد پر حاضری دی اور چادر چڑھانے کے بعد فاتحہ خوانی کرنے کے ساتھ ساتھ مہمانوں کی کتاب میں تاثرات قلمبند کیے۔ سندھ کی نگراں کابینہ کی تشکیل کیلئے مشارتی عمل جاری ہے، سیاسی جماعتوں نے کابینہ کیلئے ناموں پر غور شروع کردیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سندھ کی نگران کابینہ کیلئے پیپلز پارٹی کی جانب سے بیرسٹر ضمیر گھومرو، علم الدین بلو، سینئر صحافی شاہد جتوئی، صدیق میمن، محمد احمد شاہ، کے نام زیر غور ہیں جبکہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ اعجاز خان، راج ویر سنگھ، عبدالقادر پلیجو، مبین جمانی سمیت دیگر کے ناموں پر بھی مشاورت کی جارہی ہے۔اس کے علاوہ جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کی جانب سے نگران کابینہ کے لیئے شعیب صدیقی، یونس ڈاگا، فضل اللہ قریشی، بریگیڈیئر مختار، صفدر عباسی، زین شاہ کے ناموں پر غور جاری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں