حفیظ لوراجہ کے اغوا میں سیکورٹی فورسز کے ملوث ہونے کا الزام درست نہیں، ڈپٹی کمشنر خاران

خاران (نامہ نگار) ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد موسیانی نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خاران محمود احمد نوتیزئی اسسٹنٹ کمشنر خاران امتیاز محفوظ بلوچ لیویز رسالدار حاجی خدا بخش ساسولی اسسٹنٹ ڈی سی آفس حاجی شوکت محمدحسنی اور انجمن تاجران خاران کے صدر شیخ منیر احمد و دیگر کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر آفس خاران میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ 14 اور 15اگست کی درمیانی رات اغواءکاروں نے خاران شہر سے معروف تاجر حفیظ لوراجہ کو تشدد کا نشانہ بناکر ا±نہیں اغواءکیا تھا جس کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ خاران اور خصوصاً خاران پولیس سمیت اسسٹنٹ کمشنر واشک کی بہترین حکمت عملی کے تحت اغواءکاروں کی ایک اہم ساتھی جو لیویز معرر واشک ہے جسے فوری گرفتار کیا جس نے اغواءمیں ملوث ہونے کا انکشاف بھی کیا تھا اور ملزم کی نشانداہی اور خفیہ اطلاع پر واشک کے کئی پہاڑی مقامات پر چھاپے لگائے اور اغواءکاروں کے گرد گھیرا تنگ کیا جس کے بعد اغواءکاروں نے حفیظ لوراجہ کو کسی مقام پر چھوڑ کرخود فرار ہوئے، جسکی الگ ایف آئی آر درج کی ہے اور دیگر اغواءکاروں کی گرفتاری کیلئے چھاپے لگا رہے ہیں، کئی گرفتاریاں متوقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حفیظ اللہ لوراجہ کے اغواءمیں ملوث تمام ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائیں گے، اس جرم میں کوئی بھی سیاسی و قبائلی عمائدین کسی بھی طبقے سے تعلق ہو ا±س کیخلاف ہر صورت قانونی کارروائی کی جائیگی کیس تفتیش کے مراحل میں ہے، ابھی مکمل معلومات دینا قابل از وقت ہے۔ انہوں نے کہاکہ حفیظ اللہ لوراجہ کہ اغواءکے بعد سیکورٹی فورسز و دیگر قانون نافذ کرنے والوں اداروں کے ملوث ہونے کا الزام یکسر مسترد کرتے ہیں، دھرنے میں فورسز پر تنقید کرنا سمجھ سے بالاتر تھا اور حقائق کے بغیر تنقید کی گئی فورسز نے مغوی حفیظ لوراجہ کی بازیابی میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ کافی تعاون کیا تھا لیویز فورس اور پولیس کی جوانوں نے جو رول ادا کی وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اغواءہونے والے مدعی کی جانب سے کیس میں خاص تعاون اور مزید کیس نہ کرنا ضلعی انتظامیہ اور تفتیشی آفیسروں کیلئے حیرانگی ہے اور ضلعی انتظامیہ کی تمام آفیسروں کی دلوں میں ایسے عمل سے انتہائی مایوسی پائی جاتی ہے اگر اس طرح مدعی پیچھے ہٹی تو وہ وقت دور نہیں کہ خاران کی ہر فرد فرد اپنی باری کا انتظار کرے اور پھر ضلعی انتظامیہ سے کوئی گلہ بھی نہ کرے اب فیصلہ خاران کے عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس کیس سے متعلق کیا فیصلے دینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں