جامعہ بلوچستان انتظامیہ کے تحریری معاہدے کے برعکس فیصلے قبول نہیں کیے جائیں گے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی

کوئٹہ (آن لائن) جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے ترجمان نے اپنے ایک مذمتی بیان میں اس امر پر سخت تشویش اور افسوس کا اظہار کیا کہ جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر، رجسٹرار، ٹریژار اور ڈین پروفیسر ڈاکٹر نصیب اللہ سیماب نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان سے کامیاب احتجاجی تحریک کے نتیجے تحریری معاہدہ کیا اور سیکڑوں اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین کی موجودگی میں بیان کیا لیکن بڑی ڈھٹائی سے تحریری معاہدے کی خلاف ورزی اور وعدہ خلافی کرتے ہوئے گزشتہ روز منعقد ہونے والے سینڈیکیٹ کے اجلاس میں تحریری معاہدے کے برعکس فیصلے کئے جو دراصل وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے، بیان میں واضح کیا کہ وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور انکے جانب سے مذاکراتی کمیٹی نے آفیسران اور ملازمین کے پروموشن اور آپ گریڈیشن، تینوں ایسوسی ایشنز کی کیمپس اور دیگر کمیٹیوں میں نمائندگی، بیچلر ٹیچرز ہاسٹل میں عارضی طور پر رہائش پذیر اساتذہ کرام اور آفیسران سے ماہانہ کرایوں میں طے شدہ اضافہ، آفیسران اور ملازمین کی آپ گریڈیشن اور ٹائم سکیل پر پابندی کا خاتمہ، پروموشن پر عائد پابندی کا خاتمہ، ڈی آر اے کے بقایاجات کی ادائیگی، فوت شدہ ملازمین کے بچوں کی تعیناتی اور ملازمین کی اٹینڈنس الاونس کی بحالی جیسے پوائنٹس تحریری معاہدے میں شامل تھے لیکن سنڈیکیٹ کے گذشتہ دو اجلاسوں میں دھوکہ دہی کی بنیاد پر تحریری معاہدے کے برعکس فیصلے کئے جو کسی صورت تسلیم نہیں کئے جاسکتے ۔ بیان میں کہا گیا کہ وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی کرنے والے کسی بھی طرح ان اہم پوزیشنز پر بیٹھنے کا حق نہیں رکھتے ۔ بیان میں کہا گیا کہ اس بابت جوائنٹ ایکشن کمیٹی انتظامیہ کے مذاکراتی کمیٹی کے ممبران خاصکر وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور رجسٹرار، ٹریڑار، اور ڈین پروفیسر ڈاکٹر نصیب اللہ سیماب کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں جنہوں نے تحریری معاہدے کے باوجود وعدہ خلافی کی جو کہ غیر اخلاقی عمل ہے جسکے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی اور سنڈیکیٹ کے دیگر ممبران نے خاموش رہ کر اساتذہ اور ملازمین سے زیادتی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں