سیاسی تفریق و انتشار کو ہوا دینے کے بجائے اتحاد و اتفاق کا ماحول بنایا جائے، مولانا شیرانی
کوئٹہ (آن لائن) جمعیت کے رہنما مولانا محمد خان شیرانی نے کہاہے کہ خیر خواہی پر مبنی سنجیدہ سیاسی اور اجتماعی کردار کا تقاضا یہ ہے کہ اختلاف کو ابھار کر تفریق و انتشار کو ہوا دینے کے بجائے مشترکات کا تعین کرکے توحید و اتفاق کا ماحول بنایا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی پاکستان کے زیر اہتمام کل جماعتی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجلاس سے عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد اسلم بلوچ مجلس علما اہل بیت کے مرکزی کونسل کے رکن علامہ سید ہاشم موسوی مرکزی جمعیت اہلحدیث کے صوبائی نائب امیر مولانا عصمت اللہ سالم شیعہ علما کونسل کے صوبائی صدر علامہ محمد آصف حسینی پاکستان تحریک انصاف کے سنئیر صوبائی نائب صدر امین خان جوگیزئی جماعت اسلامی کے صوبائی نائب امیر ڈاکٹر عطا الرحمن نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان جے یو آئی (س)کے صوبائی امیر مفتی عبد الواحد بازئی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی آفس سیکرٹری ندا محمد سنگر مجلس وحدت المسلمین کے صوبائی سیکرٹری سیاسیات محمد یونس کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری چنگیز حئی بلوچ اور جے یو آئی پاکستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالمالک نے خطاب کیا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رہبر جمعیت مولانا محمد خان شیرانی نے مشاورتی عمل کے ایجنڈے کے اغراض ومقاصد واضح کرتے ہوئے کہا کہ خوف ذلت مظلومیت کی شکل میں جن حالات سے ہم سب بحیثیت مجموعی دوچار ہیں اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ یہ صورتحال ہماری مشترکہ مصیبت ہے اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس حالت کو بدلنے کیلئے ہر جماعت نے انفرادی سطح پر اپنی استطاعت کے مطابق مسلسل جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے ہمارے جانب سے اس اجتماعی مشاورت کے سلسلے کے آغاز کا مقصد ان سوالات پر غور کرنا ہے کہ کیا ہم اپنی انفرادی جدوجہد کو اجتماعی شکل دے سکتے ہیں کیا ہم ایسا ماحول فراہم کر سکتے ہیں جس میں تمام جماعتوں کا ایک مشترکہ مشاورتی حلقہ ہو جس میں ہم ان امور کی تشخیص کریں جو ہمارے درمیان متفقہ ہیں اور پھر ان متفقہ امور کیلئے متفقہ جدوجہد کا طریقہ اختیار کریں اور جن معاملات کے حوالے سے ہمارے آپس میں آرا کا اختلاف ہو ان سے متعلق ہم ایسا ماحول تشکیل دیں جس میں نہ تو اختلافی امور میں ایک دوسرے سے تائید کا تقاضا کریں کیونکہ یہ ان امور میں ہم ایک دوسرے سے متفق نہیں ہیں اور نہ ہی اختلافی معاملات میں ایک دوسرے کی تردید کریں کیونکہ ہم خود ایک دوسرے کی راستے کا رکاوٹ نہیں ہے بلکہ ہم سب کی راستے کا رکاوٹ کوئی تیسری قوت ہے انہوں نے کہا کہ ہماری دعوت اور خواہش ہے کہ ہر نظم خواہ اس کی نوعیت سیاسی ہو مذہبی ہو طبقاتی ہو قومی ہو یا سماجی ہو سب مل بیٹھ کر ہمارے اوپر مسلط جبر خوف ذلت اور مظلومیت کے اسباب و محرکات پر غور کریں اور یہ کہ ہمارے مشکلات کا باعث خود ہمارا اپنا کردار ہے یا باہر کی قوت ہے جو مشکلات ہمارے نزدیک ہمارے اپنے کردار کے وجہ سے پیدا ہوئے ہیں اس حوالے سے ہمیں اپنے کردار میں تبدیلی پر توجہ دینی چاہیے اور جن مشکلات کا تعلق ہمارے سیاسی اور حکومتی نظام سے ہے اس کے حوالے سے اپنے منتشر صلاحیتوں کو منظم اور متفرق جدوجہد کو یکجا کریں اجلاس میں شریک تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے آرا و تجاویز کی روشنی میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ مشاورتی مجلس کا آئندہ اجلاس یکم اکتوبر بروز اتوار سہ پہر تین بجے مولانا محمد خان شیرانی کے رہائش گاہ میں منعقد ہوگا جس میں ہر قسم کے جبر سے آزادی اور امن کے حصول کی حکمت عملی کے دونکاتی ایجنڈے پر غور وخوض کیا جائے گا یکم اکتوبر کے اجلاس میں مشاورت میں شامل تمام جماعتوں کے صوبائی صدور کی شرکت لازمی ہوگی –


