تربت،دزان واقعہ میں خاتون کے قتل کیخلاف احتجاجی ریلی ومظاہرہ

تربت: آل پارٹیز کیچ کا دازن تمپ میں ڈکیتی واردات کے دوران خاتون کی شہادت کے خلاف تربت میں احتجاجی مظاہرہ، نعرے بازی، قاتلوں کی فوری گرفتاری اور مقتولہ کلثوم کو سرکاری طورپر شہید قرار دینے اوربچوں کی سرکاری کفالت وتعلیم کا مطالبہ، آل پارٹیز کیچ کی جانب سے 4روزقبل دازن تمپ میں ڈکیتی کی واردات کے دوران خاتون کی لرزہ خیز قتل کے خلاف جمعرات کے روز تربت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی، ریلی کے شرکاء نے ایڈووکیٹ روڈسے براستہ مین روڈ تربت پریس کلب تک مارچ کیا جہاں سے واپس تربت چوک پرپہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کیاگیا، مظاہرین کی قیادت آل پارٹیز کے نگران کنوینر خلیل تگرانی، نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سابق میئرتربت قاضی غلام رسول بلوچ، محمدجان دشتی، طاہربلوچ، بی این پی کے مرکزی پروفیشنل سیکرٹری ڈاکٹرعبدالغفوربلوچ، میرباہڑ جمیل دشتی، شے نزیر احمد، سیدجان گچکی،عبدالواحدبلیدی، حاجی عبدالعزیز، پی این پی عوامی کے مرکزی سیکرٹری ہیومن رائٹس خان محمدجان، خالد رضا، بی این پی عوامی کے کامریڈ ظریف زدگ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صوبائی رہنمانواب شمبے زئی، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے یلان زامرانی، جے یو آئی کے مولانا جاوید نعمانی، حافظ عبدالباسط فیضی، جماعت اسلامی کے شاہ جہان، بی ایس اوکے کریم شمبے ودیگر کررہے تھے،مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اورپلے کارڈز اٹھارکھے تھے جن پر مختلف مطالبات درج تھے، شرکاء نے نعرہ بازی کی، مظاہرہ سے آل پارٹیز کے نگران کنوینر خلیل تگرانی، بی این پی کے مرکزی پروفیشنل سیکرٹری ڈاکٹرعبدالغفوربلوچ، پی این پی عوامی کے مرکزی سیکرٹری ہیومن رائٹس خان محمدجان، نیشنل پارٹی کے محمدطاہربلوچ، جے یو آئی کے زبیر احمد، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے یلان زامرانی، کیچ بار کے عبدالمجیددشتی، بی این پی عوامی کے کامریڈ ظریف زدگ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ دازن تمپ میں پیش آنے والا ڈکیتی کا واقعہ انتہائی دلخراش اورلرزہ خیزہے اور 4دن گزرنے کے باوجود تاحال ملزمان کے حوالے سے کوئی پیش رفت نظرنہیں آرہی ہے انہوں نے کہاکہ ایک منظم سازش کے تحت پراکسی وار جیسی صورتحال پیداکرکے عوام میں اضطراب وبے چینی کی کیفیت پیداکرنے کی کوشش کی جارہی ہے ڈاکو چور سرکار کے اپنے پالے ہوئے ہیں، حکومت عوام کے جان ومال کے تحفظ میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے کیچ جو امن وآشتی اور بھائی چارے کاگہوارہ تھا امن کے اس گہوارہ کو آگ لگادی گئی ہے بلوچ قوم کوگھمبیر چیلنجز کا سامنا ہے اب لوگ گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں، حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے، انہوں نے کہاکہ20روز قبل ڈنک کا سانحہ پیش آیا تھا اس میں کچھ پیش رفت اس لئے ہوئی کہ اس میں ایک ڈاکو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا مگر دازن تمپ میں قاتل ڈاکو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے جو پولیس کیلئے آزمائش ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ شہید کلثوم کو سرکاری سطح پر شہید قرار دیاجائے، کمسن بچوں کی کفالت اورتعلیم کے اخراجات کاذمہ سرکار لے اورپولیس افسران قاتلوں کی گرفتاری تک تمپ میں کیمپ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں