نوازشریف انتخابات سے پہلے پاکستان آئیں گے، احسن اقبال

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سیکرٹری جنرل اورسابق وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی وخصوصی اقدامات احسن اقبال چوہدری نے کہا ہے کہ میاں محمد نوازشریف انتخابات سے پہلے پاکستان میں آئیں گے اورپاکستان مسلم لیگ (ن)کی انتخابی مہم کو لیڈکریں گے۔نوازشریف پاکستان کے ایک آزمودہ سینئر ترین سیاستدان ہیں، پاکستان کو ان کی ضرورت ہے، وہ ضرور پاکستان آئیں گے۔ جب مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی)نے نئی ڈیجیٹل مردم شماری کی منظوری دی تھی توسب کو پتا تھا کہ اس کے بعد آئینی تقاضا ہے کہ حلقہ بندیوں کا ازسرنوجائزہ لیا جائے گا۔حلقہ بندیاں کرنا ایک آئینی اورقانونی تقاضا ہے اس لئے اس پر ہمیں سیاست نہیں کرنی چاہیے ۔میں ذاتی طور پر اس بات کا کائل ہوں کہ پاکستان تحریک انصاف کوانتخابات لڑنے کا موقع دینا چاہیے ، ہم انہیں سیاسی طور پر شکست دیں گے۔ ان خیالات کااظہار احسن اقبال نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ یہ بات اب بہت واضح ہو گئی ہے کہ میاں محمد نوازشریف کو 2017میں انصاف کے تقاضوں پر یا کسی قانون کے تقاضوںپر نہیں بلکہ ایک سازش کے ذریعے نااہل کر کے پاکستان کو ایک سیاسی بحران میں دھکیلا گیااور 2013سے2017تک ہم نے جتنی بھی معیشت کی بحالی کی ، لوڈشیڈنگ ختم کی، پاکستان کو سی پیک کے راستے پر چلانے کی کوشش کی اس سارے راستے کو رل بیک کردیا گیا اورملک ایک بے یقینی کی دلدل میں پھنس گیا۔ نوازشریف پاکستان کے ایک آزمودہ سینئر ترین سیاستدان ہیں، پاکستان کو ان کی ضرورت ہے، وہ ضرور پاکستان آئیں گے، پارٹی کے اندر یہ سوچ ہے کہ ان کی واپسی کو انتخابی مہم سے پہلے ہونا چاہیئے، کیونکہ ابھی انتخابی شیڈول حلقہ بندی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوا ہے اسی وجہ سے ان کی واپسی کاپروگرام بھی معطل کیا گیا لیکن وہ انتخابات سے پہلے پاکستان میں آئیں گے اورپاکستان مسلم لیگ (ن)کی انتخابی مہم کو لیڈکریں گے۔ نوازشریف قوم کو بتائیں گے کہ اس ترقی کے راستے سے ہٹ کر جو (ن)لیگ نے 2013-17تک متعین کیا تھا اس کی ہمیں کتنی قیمت چکانا پڑی ہے اورشاید اگلے 10سال تک ہم یہ نقصان چکاتے رہیں گے جو پاکستان پر ایک اناڑی اورناتجربہ کار قیادت کو مسلط کر کے کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب مشترکہ مفادات کونسل نے نئی مردم شماری کی منظوری دی توسب کو پتا تھا کہ اس کے بعد آئینی تقاضا ہے کہ حلقہ بندیوں کا ازسرنوجائزہ لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے نتیجہ میں صوبوں میں قومی اسمبلی کی نشستوں میں فرق نہیں پڑا تاہم اضلاع کی بنیاد نشستوں کا فرق پڑا ہے ، کچھ اضلاع ایسے ہیں جہاں نشستوں کااضافہ ہوا ہے اورکچھ اضلاع میں نشستوں کی کمی ہوئی ہے۔ اگر جس ضلع کو اضافی سیٹ ملنی ہے وہ نہیں دی جائے گی توپھر اس ضلع سے کوئی شخص عدالت جا سکتا ہے اورکہہ سکتا ہے کہ میرے ضلع کو اضافی سیٹ ملنی تھی اور میراحق نمائندگی چھینا جارہا ہے لہذاحلقہ بندی کودوبارہ کیا جائے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 16ماہ کی حکومت مسلم لیگ (ن)کی نہیں بلکہ اتحادی حکومت تھی۔آئی ایم ایف نے کہا کہ اگر آپ اُس معاہدے پر جس پر عمران خان کی حکومت دستخط کر کے گئی ہے عمل نہیں کریں گے توہم آپ کے ساتھ مزید معاملات نہیں کریں گے اوراگر ہم آئی ایم ایف کے ساتھ معاملہ نہ کرتے توخدانخواستہ ملک دیوالیہ ہوسکتا تھا، ہمیں تو16ماہ ان شعلوں کو بجھانے اورفائرتائٹنگ میں لگے اور کم ازکم ہم پاکستان کودیوالیہ ہونے سے بچاگئے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان سپورٹس مین تھے اور ہم سب کو توقع تھی کہ اگر یہ سیاست میں آئیں گے تو یہ سپورٹس مین شپ کے ساتھ سیاست میں کسی نئی روایت کے بانی ہوں گے لیکن بدقسمتی سے انہوں نے جمہوریت کے اندر فاشزم کی طرح یا ہٹلر کی طرح ون پارٹی اسٹیٹ بنانے کی سیاست کو پروان چڑھایا اوراسی کے زریعہ انہوں نے ملک کے اندر ہرسطح پر بدترین پولارائزیشن کی ہے ، معاشرے کے اندر پولارائزیشن کی ہے، قومی اداروں کے اندر پولارائزیشن کرنے کی کوشش کی ہے اورسب سے خطرناک ان کی جوآخری سازش تھی کہ وہ ہمارے اس ادارے میں بھی پولارائزیشن کی کوشش کر کے گئے جو ملکی دفاع کا ضامن ہے، عمران خان نے باقائدہ کوشش سے اس ادارے کے اندر بھی کریکس ڈالنے کی کوشش کی۔ یہ ضروری ہے کہ آئندہ انتخابات کے نتیجہ میں ایک مضبوط حکومت جس کے پاس معیشت کی سمجھ بوجھ ہو وہ پانچ سال کا مینڈیٹ لے کر آئے ۔ ہم سالانہ دوارب دالرز کے وسائل اسٹیٹ انٹرپرائزز کے اندرضائع کررہے ہیں، اسی طرح ملک کا بجلی کا سرکولر ڈیٹ 2ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکا ہے،ملک کے کچھ ایسے علاقے ہیں جہاں پر لوگ90فیصد اور100فیصد بجلی کا بل دیتے ہیں اور کچھ ملک کے ایسے علاقے ہیں جہاں لوگ 50سے60فیصد تک بجلی کا بل نہیں دیتے ، جو 90فیصد بجلی کا بل دیتے ہوئے وہ دیگر لوگوں کی چوری کا بوجھ بھی برداشت کررہے ہیں اوراب یہ بوجھ ان کے لئے ناقابل برداشت ہو گیا، میں سمجھتا ہوں کہ اس کا حل یہی ہے کہ جو بجلی کی تقسیم کارکمپنیاں ہیں ان کا نظام صوبوں کو منتقل کردینا چاہیئے تاکہ ہرصوبہ اپنے عوام سے بجلی کے بل وصول کرنے کا ذمہ دار ہواوراگر وہ عوام کو مفت بجلی دینا چاہتا ہے تووہ اپنے محاصل سے وفاق کو بجلی کی قیمت اداکردے تاکہ یہ سرکولر ڈیٹ ختم ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں