خدارابلوچستان کیلئے کوئی اقدام اٹھائیں، خان محمد جمالی

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے خان محمد جمالی نے کہاکہ بلوچستان میں ٹڈی دل کا بڑا حملہ ہے وفاقی حکومت کیساتھ ساتھ صوبائی حکومت کو بھی اس کے تدارک میں اپنا کردار ادا کرنا چاہی موسمی تبدیلی کے باعث حکومت کا گندم کا ٹارگٹ پورا نہیں ہوسکا، خریف کی فصل کا سیزن شروع ہوچکا ہے،ٹڈی دل کا تدارک نہ کیا گیا تو کہیں خریف کی فصل کو بھی نقصان نہ ہوجائے،پانی کا مسئلہ حل نہ ہونے پر چھوٹے کاشتکار اپنی زمینیں بیچنے پر مجبور ہیں،ہر سال پانی کی کمی ہوتی جا رہی ہے میری تجویز ہے کہ کھیتر کنال کو ایک سٹرا گیٹ دیں تاکہ زیادہ علاقہ سراب ہو ہر صوبے سے ارسا میں ایک نمائندہ ہے لیکن بلوچستان سے کوئی نمائندہ نہیں ہے۔خان جمالی نے مزید کہا کہ کرونا کے باعث ایکسپورٹ کافی متاثر ہوئی ہیں،زراعت وہ شعبہ ہے جو 6 ماہ میں بہتر رزلٹ دے سکتا ہے،ہمارے بابو لوگ بیٹھ کر زراعت کے شعبے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ وفاق کے ساتھ ساتھ صوبوں کی بھی ذمہ داری ہے۔ٹڈی کے خاتمے کے لیے صوبے بھی حصہ ڈالیں ورنہ وہی نہ ہو ہو گندم کی طرف خریف فصل کا بھی برا حال ہو۔ ارسا میں بلوچستان کا کوئی ممبر نہیں، ارسا میں بلوچستان کا ممبر بھی ہونا چاہیے،خدارا بلوچستان کے لیے کوئی اقدام اْٹھائیں اگر بلوچستان خوشحال نہیں ہوگا تو ملک کیسے خوشحال ہوگا ہمارے علاقوں میں گرمی شدید ہوئی گئی ساتھ ساتھ لوڈشیڈنگ بھی بڑھ گئی ہم بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں بلوچستان میں بجلی چوری ہوتی ہے ایک ڈسٹرکٹ میں دو کروڑ کی گیس روزانہ چوری ہوتی ہے بلوچستان کیا چوری کرے گا واپڈا نے خود ٹرانسفرمر سیل کیے ہوئے ہیں لیکن کْنڈے لگاوا کر دئیے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ جب تک چھوٹے چھوٹے ڈیم نہیں بنائیں گے بلوچستان کے پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوگا،بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے،بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے جہاں معدنیات کی بہتات ہے،جب سے اکبر بگٹی فوت ہوئے ہیں بلوچستان میں مایوسی ہے،خدارا سب کیساتھ مساوی رویہ رکھا جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں