اسلام کے پیروکار اقلیتوں کے محافظ ہیں، اہم اور کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو ہٹایا جائے، مجلس تحفظ ختم نبوت

کوئٹہ (این این آئی) مذہبی رہنماﺅں نے قادیانیوں کو دعوت اسلام دیتے ہوئے کہا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کی وحدت کا مرکز اور دین متین کا بنیادی عقیدہ ہے۔ اس کے تحفظ کے لئے مسلمان کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرینگے۔ عالم کفر وقتاً فوقتاً مختلف سازشیں کرکے امت مسلمہ کے جذبات مجروح کررہا ہے۔ ہم کفری قوتوں پر یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام امن پسند مذہب ہے اور اس کے پیروکار اقلیتوں کے محافظ ہیں۔ قادیانی مملکت پاکستان کے وفادار نہیں ان کو اہم اور کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔ قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے ایک سازش کے تحت بلوچستان کو قادیانی اسٹیٹ بنانے کے لئے مہم شروع کی لیکن امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری اور ان کی جانثار ان ختم نبوت نے سرزمین بلوچستان میں قادیانیت کو پنپنے نہیں دیا۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے امیر پیر طریقت مولانا پیر ناصر الدین خاکوانی، مولانا خواجہ عزیز احمد، شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، جمعیت علماءاسلام کے مرکزی رہنما مولانا حافظ حمداللہ، جمعیت کے پی کے کے رہنما مفتی کفایت اللہ، مفتی محمد احمد خان، بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما سابق رکن اسمبلی ملک نصیر شاہوانی، مولانا قاضی احسان احمد، مولانا حافظ حسین احمد شرودی، مولانا انوارالحق حقانی سمیت دیگر نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے زیراہتمام ہاکی گراﺅنڈ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کی وحدت کا مرکز ہے۔ قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے ملک کے اقتدار پر شب خون مارنے کی تیاریاں شروع کردیں اور احمدی صوبہ بنانے کے لئے سرزمین بلوچستان کا انتخاب کیا لیکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے آئینی و قانونی جدوجہد کرکے قادیانیوں کی یہ سازش ناکام بنادی۔ مقررین نے کہا کہ ریاست مدینہ کے دعویداروں نے عقیدہ ختم نبوت پر شب خون مارنے کے لئے کئی حربے استعمال کئے لیکن ذمہ دار مذہبی قیادت نے کسی صورت ایسے منصوبے کامیاب نہیں ہونے دیئے۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں حضرت محمد مصطفیٰ اورصحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والوں کو عمران خان کے دور حکومت میں راتوں رات بیرون ملک بھجوا دیا گیا۔ کرتارپور راہداری ایک منصوبے کے تحت کھولی گئی تاکہ قادیانیوں کو آمدورفت میں آسانی ہو۔ قادیانیوں ہی کی وجہ سے کشمیر ہندوستان کے پاس چلا گیا۔ مسئلہ کشمیر ہی قادیانیوں کا پیدا کردہ مسئلہ ہے۔ تقسیم کے بعد ریڈکلف کمیشن کے سامنے پیش کردہ میمورنڈم میں اگر قادیانی پاکستان کے ساتھ رہنے کا موقف اختیار کرتے تو کشمیر انڈیا کے پاس نہ جاتا۔ مقررین نے کہا کہ حکومت قادیانیوں کو آئین و قانون کا پابند بنائے۔ قادیانیت کسی مذہب و عقیدے کا نام نہیں،حضور سے بغض و عناد کا نام ہے۔ مقررین نے کہا کہ امام الاولین و آخرین تاجدار ختم نبوت حضرت محمد کی ذات سراپا رحمت و نعمت عظمیٰ ہے۔ مقررین نے کہا کہ مغربی قوتوں کی کوشش ہے کہ اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا جائے، لیکن ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اسلام پرامن مذہب ہے اقلیتوں کے تحفظ کا ضامن ہے، اگر قادیانی خود کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کریں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، مقررین نے کہا کہ قادیانی ملکی سالمیت کے خلاف سازشیں کررہے ہیں کفار منفی حربوں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے، عالم کفر وقتاً فوقتاً گستاخانہ خاکے شائع کرکے اور کبھی قرآن پاک کی توہین کرکے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے، مقررین نے کہا کہ قادیانیوں سمیت دیگر فتنوں کی سرکوبی کے لئے امت مسلمہ کو متحد ہوکر جدوجہد کرنا ہوگی۔ جمعیت کے رہنما حافظ حمداللہ نے کہا کہ ملک کی معاشی صورتحال کی ذمہ دار عالمی قوتیں ہیں جن کی کوشش ہے کہ قادیانیوں کو پاکستان میں مسلمان قرار دیا جائے لیکن مجاہدین و خادمین ختم نبوت کی موجودگی میں یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ وقتاًفوقتاًملکی حکمرانوں پر دباﺅ ڈال کر سازش کی جاتی ہے کہ قادیانیوں کو مسلم تسلیم کیا جائے، لیکن علماءحق ہمیشہ ان کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے۔مقررین نے کہا کہ تاجدار ختم نبوت نے کائنات کو فلاح و کامرانی کا دستور عطا کیا۔ ریاست مدینہ کی بات ان پر زیب نہیں دیتی جو اسلامی تعلیمات سے واقف نہیں اور ریاست مدینہ کا نام لیکر اپنی کرسی اور اقتدار کو دوام دیتے رہے، ان سے کیا امید جو اجتماعات میں اسلامی ٹ?چ کا نام دیکر مسلمانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ اس گمراہ ٹولے کو عوام نے نہ ماضی میں کبھی قبول کیا نہ آئندہ کبھی کریں گے۔جمعیت کے رہنما مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ جمعیت علماءاسلام نے ہمیشہ اسلام کی سربلندی اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جدوجہد کی۔ مولانا مفتی محمود ہی کی قیادت میں 1974ءمیں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ 75 سال سے سیکولر قوتوں کو ملک کا اقتدار دیکر آزمایا جارہا ہے کیوں نہ ایک مرتبہ مذہبی قوت کو اقتدار دیکر آزمایا جائے۔ عمران خان کے بدترین انتقامی دور میں ہماری قیادت پر ایک روپے کی کرپشن کا الزام نہیں لگا اگر ہمیں اقتدار کا موقع دیا گیا تو ہم ملک کو مسائل کے بھنورسے نکالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدارس دینیہ کے طلباءمملکت خداداد کی سرحدوں کے محافظ ہیں اور مدارس ملک کے دفاع کے مرکز میں پاکستان ہمارا وطن اور اس کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ مقررین نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کو سرزمین کوئٹہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد دی اور کہا کہ آج کا یہ اجتماع ان تمام قوتوں کے لئے پیغام ہے کہ بلوچستان مذہبی حلقوں کی سرزمین ہے اور یہاں کے عوام اسلام اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں