پاکستان میں خواتین اور بچیوں کیساتھ زیادتی میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے، جماعت اسلامی خواتین
کوئٹہ (آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان حلقہ خواتین بلوچستان کی ناظمہ شازیہ عبداللہ نے کہا ہے کہ او آئی سی تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حجاپ پرپابندی کے امتیازی قوانین کو ختم کروانے کیلئے اقدامات کرے اور مسلم حکمران و حقوق نسواں کی تحریکیں اس معاملے میں مسلم عورت کے حق حجاب کی پاسبانی کریں۔ یہ بات انہوں نے اتوار کو صوبائی نائب ناظمیہ ثریا طارق نائب ناظمہ اسما اسد قاضی ،ناظمہ ضلع فرزانہ اعجاز ، نائب ناظمیہ ضلع پروین عبدالوہاب ، روبینہ علی ثوبیہ ارشد اوردیگر کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وطن عزیز کی سیاسی اور معاشی صورتحال تو ناگفتبہ تھی لیکن چند سال سے ہماری اخلاقی حالت انتہائی پستی کاشکار ہے آئینی اعتبار سے اسلامی اورآبادی کے لحاظ سے مسلمان ملک ہونے کے باوجود ہمارے ہاں خواتین انتہائی جاہلانہ رویوں کا شکار ہیں اکثر دیہی علاقوں میں بچیوں پر تعلیم کے دروازے بند ہیں خواتین کو ملکیت بناکر خریدا اور بیچا جاتا ہے تو دوسری طرف شہری اور تعلیم یافتہ حلقوں میں بھی خواتین سے متعلق روایتی مہر اور وراثت کے حقوق متاثر ہیں جبکہ عورتوں پر جسمانی و ذہنی تشددروارکھنا عام رویہ ہے شہر ہو یا دیہات اسوقت عورت اور بچوں خصوصاً گرل چائلڈ کے لئے محفوظ ماحول کی فراہمی دن بدن زوال کاشکارہوتی جارہی ہے حالیہ لاہور اور رانی پور کے واقعات نے اس تلخ حقیقت کو ثابت کیا ہے کہ ہمارے ہاں لاقانونیت ،بدعنوانی اور جرائم کے پیچھے با اثر و با اختیار مقتدرہ کا ہاتھ ہوتا ہے مذکورہ واقعات میں بھی ڈومیسٹک ورکرز پروٹیکشن ایکٹ کی موجودگی کے باوجود اور پیری فقیری کے کھیل کی آڑ میں ایک جج کی ناک کے نیچے ظلم و ستم اور سنگین جراتم کا ارتکاب اس دعوے کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہاولپور یونیورسٹی کے واقعے نے قوم کو بری طرح ہلاکر رکھ دیا ہے حجابی تہذیب کے برخلاف مخلوط نظام تعلیم کی خرابیاں سرچڑھ کر بول رہی ہیںتعلیمی نظام کا اخلاقی دیوالیہ پن کھل کر سامنے آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ امسال چار ستمبر عالمی یوم حجاب کو چادر اورچاردیواری کے تحفظ کے نام کرتی ہیں اسلام کی بھولی بسری نورمقدم ہو یا آج کی رضوانہ ، رانی پور کی فاطمہ یو یا بہاولپور یونیورسٹی اسکینڈل ،گراں ناز بلوچ ہرواقعے نے ہمارے سرشرم سے جھکادیئے ہیں ہم سمجھتی ہیں کہ جہاں خوف خدا نہ ہو شرم و حیا نہ ہو قانون کا ڈر نہ ہو طاقت کا غلط استعمال ہو وہاں کمزور کا استحصال ایک معمول بن جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچیوں پر تشدد ،بے حرمتی اور معصوم بچوں کے ساتھ غیرانسانی فعل کے واقعات پر قابو پانے کیلئے معاشرے کی تربیت کے ساتھ ساتھ اس تنزلی کے محرکات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی یوم حجاب کے موقع پر ہم اہل اقتدار اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ امہات المومنین کی سیرت کو ہرشعبہ ہائے زندگی میں بطور نمونہ سامنے رکھا جائے خواتین اوربچیوں کے ساتھ زیادتی میں ملوث ملزمان سمیت فاطمہ ،رضوانہ اوردیگر واقعات کے ذمہ داران اورانکے سہولت کاروں کوعبرتناک سزادی جائے ۔انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان جن بنیادی انسانی اور خواتین کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے انکو مکمل بحال کیا جائے خواتین کے اسلامی حقوق کی پاسداری کی جائے خواتین کیلئے علیحدہ تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں جائے ملازمت پر خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی داروں میں منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال اور غیراخلاقی سرگرمیاں لمحہ فکریہ ہیں اسکی روک تھام کیلئے فوری اورمربوط اقدامات کئے جائیں۔


