محکمہ تعلیم پنجگور میں اقربا پروری اور بے قاعدگیاں، متعدد پرائمری اسکول بند، عمارتیں کھنڈر بن گئیں
پنجگور (نامہ نگار) محکمہ تعلیم پنجگور میں اقربا پروری اور بے قاعدگیاں جاری، مختلف تعلیمی ادارے بند، کئی پرائمری اسکول کھنڈر میں تبدیل۔ محکمہ تعلیم پنجگور کی عدم توجہ کی وجہ سے سرکاری اسکولوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے، خصوصاً پرائمری اسکول جو تعلیم کی بنیاد کہلاتے ہیں مگر عدم توجہ کے باعث کھنڈر میں تبدیل ہوگئے، اب تو ہائی اسکول بھی بند ہیں، جس سے علاقے میں تعلیمی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ اسکولوں کی مرمت کے نام پر لاکھوں روپے آنے کے باوجود اسکولوں کا کھنڈر میں تبدیل ہونا ایک جواب طلب مسئلہ ہے۔ اس بارے میں محکمہ تعلیم کے ذمے داران بہتر جواب دے سکتے ہیں۔ دوسری جانب بہت سے ٹیچرز سالہا سال ڈیوٹی سے غائب ہیں، مگر افسران کی آشیرباد سے ان کی تنخواہیں اکاﺅنٹ میں جمع ہورہی ہیں جبکہ اگر کوئی غریب اور کمزور ٹیچر بوجہ بیماری یا ایمرجنسی کی صورت میں اسکول نہ جاسکے تو نہ صرف ان کی تنخواہیں بند کی جاتی ہیں بلکہ جواب طلب بھی کیا جاتا ہے اور جواب دینے کے باوجود کئی کئی مہینوں سے ان کی تنخواہیں واپس اکاﺅنٹ میں جمع نہیں کی جاتی۔ ذرائع کے مطابق بہت سے ٹیچر علاقے سے باہر ہیں اور بہت سے پنجگور میں موجود نہیں مگر ان کی تنخواہیں ایک دن بھی بند نہیں رکتی۔ پنجگور میں گھوسٹ ٹیچرز کی بھرتیاں کرنے کا انکشاف سامنے آرہا ہے مگر ان کے بارے میں نہ کوئی تحقیقات ہوئی اور نہ ان کی تنخواہیں بند کی جاتی ہیں اگر تنخواہیں بند کی جاتی ہیں تو صرف اور صرف ان ٹیچرز کی جو بوجہ بیماری یا ایمرجنسی اسکول نہ جاسکے۔ بلوچستان بھر میں اٹیچمنٹ پر پابندی ہے مگر پنجگور میں درجنوں ٹیچرز اب بھی اٹیچ کیے گئے ہیں۔ محکمہ تعلیم پنجگور کی عدم توجہ کی وجہ سے پنجگور میں تعلمی نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ بھاری تنخواہیں وصول کرنے کے باوجودِ ٹیچرز کی غیر حاضریوں کے حوالے سے محکمہ کے آفیسران بہتر جواب دے سکتے ہیں۔


