کراچی:پولیس کا ڈاکوؤں سے مقابلہ، پولیس اہلکار جاں بحق

کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں مبینہ ڈاکووں سے مقابلے کے دوران دو پولیس اہلکار جاں بحق اور خاتون ایس ایچ اور سمیت 4 جوان زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق ایک اہلکار مبینہ ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا جبکہ دوسرا اہلکار ان کا پیچھا کرتے ہوئے حادثے کے نتیجے میں دم توڑ گیا۔

سرجانی پولیس کی خاتون ایس ایچ اور دیگر 3 اہلکار بھی حادثے میں زخمی ہوئے۔سینئر پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرجانی پولیس کا اہلکار عارف اور سبحان سیکیورٹی پر تعینات تھے جبکہ وہ ایک مخبر کے ہمراہ کار پر جارہے تھے اور تینوں سادہ کپڑوں میں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ خفیہ ڈیوٹی پر تھے اور جب ناردرن بائی پاس میں زیرو پوائنٹ پر پہنچے تو اچانک 5 سے افراد ان کی گاڑی کے سامنے کھڑے ہوئے اور ڈکیتی کے ارادے سے انہیں رکنے کا اشارہ کیا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ اہلکاروں نے ڈاکوؤں کو بتایا کہ وہ پولیس اہلکار ہیں لیکن ملزمان نے فائرنگ کی اور فائرنگ کے تبادلے کے دوران سپاہی عارف جاں بحق ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 3 مبینہ ڈاکو بھی زخمی ہوئے لیکن ان کے ساتھی انہیں اپنے ساتھ لے گئے جبکہ زخمی اہلکار سبحان نے سرجانی پولیس کی ایس ایچ او شرافت خان کو فون کرکے آگاہ کیا۔

خاتون ایس ایچ او پولیس پارٹی کے ساتھ جائے وقوع کی طرف روانہ ہوئی تاہم تیزرفتاری کے باعث ان کی گاڑی زیروپوائنٹ کے قریب حادثے کا شکار ہوئی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار غلام حیسن جاں بحق ہوا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ جائے وقوع سے خون کے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں اور زخمی ہونے والے ملزمان کی شناخت کے لیے ان کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ موقع سے ایس ایم جی رائفل اور 12 بور پستول کی گولیوں کے خول بھی ملے ہیں اور ان کو ٹیسٹ کے لیے لیبارٹری بھیج دیا گیا ہے جس کے بعد تعین ہوگا کہ مذکورہ اسلحہ ماضی میں بھی وارداتوں میں استعمال ہوا ہے نہیں۔

جاں بحق پولیس اہلکار غلام حسین کی نماز جنازہ گلبرگ میں ڈی آئی جی غربی کے دفتر میں ادا کی گئی جہاں ایڈیشنل آئی جی کراچی ٖغلام نبی میمن اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔

کراچی پولیس کے سربراہ نے کہا ہے کہ پولیس نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں اور شہر میں امن کی بحالی کے لیے ہمیشہ مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ ‘ہم ان تمام افسران کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جان کی قربانی دی’۔

یاد رہے کراچی میں رواں برس اپریل میں راشن کی تقسیم کے دوران دوگروپوں کے درمیان ہوئے جگھڑے کے موقع پر ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں 4 اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ایک خاتون بھی جاں بحق ہوئی تھی۔

اس سے قبل جون 2019 میں فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے اور پولیس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ واقعہ ٹارگٹ کلنگ کا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں