تحریک بحالی بولان میڈیکل کالج کے زیر اہتمام صوبائی اسمبلی بلوچستان کے سامنے احتجاجی دھرنا جاری
تفصیلا کے مطابق بلوچستان اسمبلی کے سامنے آج تحریک بحالی بولان میڈیکل کالج کے زیر اہتمام احتجاجی دھرنا جاری ہے جس کی قیادت تحریک کے چیئرمین حاجی عبداللہ خان صافی کر رہے ہیں۔ دھرنے سے ایپکا کے مرکزی ڈیٹی جنرل سیکرٹری محمد یونس کاکڑ صاحب صوباہی صدر داد محمد بلوچ ایڈشنل جنرل سیکرٹری علی نواز شاھوانی محمد رسول وفا ایپکا پشین کے صدر۔ تحریک بحالی کے وائس چانسلر ڈاکٹر الیاس بلوچ ڈاکٹر غلام مصطفےٰ وردگ ڈاکڑ قادر بلوچ ڈاکٹر اعجاز بلوچ باسط شاہ ڈاکٹر طارق بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے اپنے مسائل کے خاتمے تک یہاں بیٹھنے کا عہد کیا۔ دھرنے میں میڈیکل کی طلباء و طالبات سمیت بی ایم سی کے ملازمین شریک ہیں۔ مقررین نے معاہدے کے مطابق بولان میڈیکل کالج بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک بی ایم سی بحال نہیں کیا جاتا دھرنہ جاری رہے گا۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا اپوزشین رہنماوں کے وفد نے نواب محمد اسلم ریسانی کے سربراہی میں دھرنے کا دورہ کیا وفد میں میر اختر حیسن لانگو نصراللہ زیرے ثنا بلوچ حمل کلمتی ملک نصیر شاھوانی شامل تھے۔ وفدنے اسمبلی کے فلور پر تحریک بحالی بی ایم سی کے حق میں آواز اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔ نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی میر عطاء محمد بنگلزئی نے دھرنے کا دورہ کیا اور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مکمل تعاون کا یقین دلایا مقررین نے کہا کہ ہم ہر فورم پر اپنا موقف درست ثابت کرچکے ہیں بولان میڈیکل کالج صوبہ کا اثاثہ ہے اس کو تباہ ہونے نہیں دینگے ادارے کو نااہل عناصر کے رحم کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جو سرمایہ داروں کے لیے راہ ہموار کررہی ہے جب کے صوبے کے غریب محنی طلباء پر میڈیکل کی تعلیم کے دروازے بند کیے جارہے ہیں جس کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک مرتبہ پھر اعلیٰ حکام کو بے بنیاد الزامات کے ذریعے گمراہ کرنے کی کوشیش کی اور اس کا سلسلہ جاری ہے، یونورسٹی انتظامیہ اپنی نااہلی اور ناکامیوں کا ملبہ ملازمین و طلباء کے سر ڈالنے کی کوشیش کر رہی ہے جسی کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔


