کوئٹہ،طالب علم کی موت کے ذمے دار ڈرائیور کو ورثا نے معاف کردیا
دالبندین/کوئٹہ (آن لائن)طالب علم کی موت کے ذمے دار ڈرائیور کو ورثا نے معاف کردیا تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز جوشنزئی ہاوس چکی شاہوانی سریاب روڈ پر حاجی عبد الرحیم ترین،ڈاکٹر فیصل ترین ،صفدرحسین کوکھر حاجی محمد افضل کوکھر میڑھ لیکر کوئٹہ پہنچے فریق دوئم حاجی عبدالمجید جوشنزئی، سردار اشرف جوشنزئی، حاجی نوراحمد شاہوزئی، گل زمان جوشنزئی کے ثالثی میں خون کا تصفیہ کردیا گیا دونوں فریقین شیروشکر ہوگئے یاد رہے کہ دالبندین سے تعلق رکھنے والے طالب علم تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے اسلام آباد میں کافی عرصے اپنے رشتے دار کے ہاں رہائش پذیر تھے 9 مئی کو ایف ٹین تھری بوائز کالج اسلام آباد کے طالبعلم جنید احمد اور اسکا دوست چھٹی کے بعد موٹر سائیکل پر اپنے گھر ای الیون ون جارہے تھے کہ مارگلہ روڈ پر اسکول بس کے ساتھ حادثہ پیش آیا جنید احمد اور اسکا دوست شدید زخمی ہوگئے دونوں طالبعلم زخمیوں کو پمز ہسپتال اسلام آباد منتقل کردیا گیا مگر زخموں کے تاب نہ لاتے ہوئے دونوں زندگی کی بازی ہار گئے مقامی انتظامیہ نے بس ڈرائیور عبد القیوم کوکھر ولد صفدر حسین کوکھر کو گرفتار کر لیا ،اس سلسلے میں حاجی عبد الرحیم ترین ودیگر کی ثالثی میں گزشتہ روز اسلام آباد سے میڑھ لے کر جنیداحمد کے والد گل زمان کے پاس میڑھ لیکر کوئٹہ آئے جہاں مرحوم جنید آحمد کی جانب سے حاجی عبد المجید جوشنزئی نے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے جنید احمدکے خون کو حادثاتی موت قرار دے کر بس ڈرائیورعبد القیوم کوکھر کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کردیا گیا اس موقع پر قبائلی رہنما سردار اشرف جوشنزئی ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ہم نے آج جنید آحمد کی خون کو خاص کر اللہ کی رضا کے لیے معاف کردیا اسکا اجر اسکے والدین کو اللہ پاک ضرور دے گا۔


