معاشی قتل پر اب خاموش رہنا ممکن نہیں، ایران سے بارڈر ٹریڈ کو قانونی شکل دی جائے، آل پارٹیز پنجگور

پنجگور (نامہ نگار) پنجگور بارڈر سے وابستہ کاروباری افراد اور بارڈر بچاﺅ تحریک کے نمائندوں زبیر ایوب، نجیب سلیم اشفاق آدم نے میونسپل کارپوریشن آفس میں بی این پی عوامی کے رہنماوں اور مئیرمیونسپل کارپوریشن شکیل احمد قمبرانی بی این پی عوامی کے مرکزی رہنما نوراحمد بلوچ حاجی محمد یاسین نثاراحمد ضلعی آرگنائزر رحمدل بلوچ اوربارڈر سے وابستہ دیگر محنت کشوں کے ہمراہ بارڈر کے مسلے پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بارڈر کے مسلے پر تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول سیاسی قیادت ایک پیج پر ہیں پنجگور کے عوام کا معاش بارڈر سے وابستہ ہے، گھریلو ضروریات سمیت بچوں کی تعلیم دکانداری سب بارڈر کے محتاج ہیں 21 ہزار ای ٹیگ عوام نے ازخود نہیں بنائے بلکہ یہ سیکورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ نے ملکر جاری کیئے تھے ضلعی انتظامیہ عوام کو بارڈر کی اصل صورت حال سے آگاہ کرنے میں ناکام ہے بارڈر کی بندش سے پنجگور سمیت پورا بلوچستان متاثر ہے سب کی نظرین بارڈر پر لگی ہوئی ہیں بارڈر کی بندش کسی بھی صورت قبول نہیں ہے اس پر بھرپور احتجاج کرینگے حالات کی خرابی کے زمہ دار انتظامیہ ہوگی انہوں نے کہا کہ بارڈر پر بزنس نہیں ہورہا بلکہ لوگ اپنے بچوں کے پیٹ کی خاطر لوگ دربدری کا پیشہ اختیار کیئے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ بارڈر کو دہشت گردی سے جوڑنے کا کوئی جواز نہیں بنتا حکومت خود عوام کو بے روزگار کرکے خرابیوں کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے سیکٹر کمانڈر اور ڈپٹی کمشنر عوام کے اس جائز مسلے پر توجہ دیں اور لوگوں کے روزگار کو بحال کرنے کے لیے فوری اقدام کریں لاکھوں لوگ فاقوں کی حالت میں اپنے شب روز گزارنے پر مجبور ہیں اور بارڈر بند ہونے سے اس وقت پنجگور کا پہیہ جام ہوچکا ہے سڑکین ویران بازار خالی ہے یہ یہاں کے عوام کا صدیوں پرانا روزگار ہے اسے چھین کر عوام دشمنی کیا جارہا ہے عوام اپنے روزگار کی خاطر جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرینگے کیونکہ بارڈر چلے گا تو لوگوں کے گھروں کے چولہے جلیں گے انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے عجلت میں اٹھایا گیا یہ اقدام بلوچ عوام کا معاشی قتل ہے جس پر اب خاموش رہنا ممکن نہیں ہے بلوچ پرامن طریقے سے اپنا روزگار کرریے ییں حکومت ایک طرف عوام کو روزگار نہیں دیتی اور جو روزگار وہ اپنی محنت اور پیسوں سے جان جوکھوں پر ڈال کرکرتے ہیں اب انہیں اسکی بھی اجازت نہیں ہے دنیا میں جہاں بھی سرحدیں ایک دوسرے ملک سے ملے ہوئے ہیں وہاں کے عوام کو ریلف دیا جاتا ہے آنے جانے کی سہولت سے لیکر روزگار تک ہر قسم کی سہولت حاصل ہے انہوں نے کہا کہ بارڈر بلوچستان کے عوام کی زیست کا مسلہ ہے بارڈر کھلے گا ڈیزل باہر جائے گی تو لوگ دو وقت کی روٹی کھانے کے قابل ہونگے دوسرا زریعہ نہیں ہے بارڈر بند کرنے کا مقصد عوام کو بھوکا مارنا ہے حکومت ایک طرف معیشت کی بات کرتا ہے تو دوسری جانب پورے بلوچستان کو معاشی سطح پر مفلوج بنانے کے لیے طرح طرح کی پابندیاں عائد کرتا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ مکران کے عوام قانونی طریقے سے بارڈر پر روزگار کررہے ہیں انہیں حکومت نے ای ٹیگ جاری کرکے روزگار کرنے کی اجازت دی ہے حکومت کو بلوچستان کے معروضی حالات کا ادراک ہونا چائیے حکومتیں اپنے عوام کو روزگار دیتی ہیں انہیں بے روزگار نہیں کرتے خلیجی ملک مسقط کی بھرتی کو بھی سبوتاڑ کرکے نوجوانوں کو وہاں جانے نہیں دیا گیا مسقط اور دیگر خلیجی ممالک میں ویسے بلوچوں کی بھرتیوں پر پابندی ہے اب ایران بارڈر سے بھی انہیں بے دخل کیا جارہا ہے جس سے لوگوں کا بھوک بڑھے گا انہوں نے کہا کہ ہم حکومتی اقدامات کی پرزور مزمت کرتے ہیں حکومت جان بوجھ کر بدامنی پھیلانا چاہتی ہے 48 گھنٹوں کے اندر بارڈر کو اصل پوزیشن پر بحال نہیں کیا گیا تو عوام کو لیکر سڑکوں پر نکلیں گے بی این پی عوامی بارڈر کے مسلے پر اپنے محنت کش بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے بارڈر چلے گا عوام اپنی ضروریات زندگی کا بندوبست کرنے کے قابل ہوسکیں گے بارڈر کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے ایک ہفتے سے بارڈر کی بندش سے لاکھوں لوگ جس کرب بھوک اور پریشانی میں اپنے دن رات بسر کررہے ہیں اسکا اندازہ عالیشان محلات میں جلوہ گر حکومتی شخصیات اور اختیارداروں کو نہیں ہے وہ صرف ایک دن کی بھوک پر فاقہ کرلیں تو انہیں پتہ چلے گا کہ بے روزگاری میں زندگی کس قدر مشکل ہوتی ہے بلاشبہ حکمران اپنے بچوں کو پرطیش زندگی اور ماحول دیں ہمیں اس بات پر اعتراض نہیں ہے مگر جو رزق ہمیں خود کی مشقت اور محنتوں سے مل رہا ہے اس پر قدغن نہ لگائیں اور ہمارے بچوں کے لیے ایک وقت کی روٹی تو رہنے دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں