بیرک گولڈ کے تحت انٹرنیشنل گریجویٹ پروگرام کیلئے 9 ہونہار بلوچ طلبہ کا انتخاب شروع
کوئٹہ (آن لائن) ریکوڈک مائننگ کمپنی (بیرک)کے انٹرنیشنل گریجویٹ پروگرام کے لیے نو ہونہار بلوچ نوجوان گریجویٹس کا انتخاب شروع۔ ریکوڈک مائننگ کمپنی (بیرک)کی جولائی میں شروع کی گئی انٹرنیشنل گریجویٹ پروگرام بلوچستان بھر سے 9 نوجوان گریجویٹس کے انتخاب پر اختتام پذیر ہوا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد مستقبل کے ماہرین اور رہنماں کا ایک کیڈر تیار کرنا ہے جو نہ صرف خطے کے ہنر مندی کے خلا کو پر کریں گے بلکہ اپنے صوبے کے ساتھ ساتھ ریکوڈک مائننگ کمپنی کو بھی چیمپئن بنائیں گے۔بیرک کی ایک عالمی کمپنی ہونے کے ناطے، 19 ممالک میں موجودگی ہے اور وہ اپنی ٹیم کے ارکان کو سرحد پار سیکھنے کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ علم اور ہنر کی منتقلی اور اندرون ملک صلاحیت کو بڑھانے کا موقع ملے۔ پاکستان کے لیے یہ پروگرام کان کنی کے شعبے میں قومی انسانی وسائل کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے ایک سرمایہ کاری ہے۔ بین الاقوامی گریجویٹ پروگرام کی مدت دو سال ہوتی ہے جس کے بعد ملازمین عام طور پر اپنے اصل ملک واپس لوٹ جاتے ہیں تاکہ وہاں بیرک کے لیئے کام کریں۔نو گریجویٹس میں سے چار خواتین ہیں، کا تعلق بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ہے اور ان کا انتخاب میرٹ پر مبنی عمل کے ذریعے کیا گیا۔ منتخب گریجویٹس کا انتخاب بلوچستان کے اضلاع جیسے پنجگور، گوادر، کوئٹہ، لورالائی، خضدار، پشین اور چاغی سے کیا گیا جہاں آر ڈی ایم سی کام کررہی ہے۔ آر ڈی ایم سی (بیرک) کی جانب سے بھرتی کیئے گئے ان گریجویٹس نے الیکٹریکل انجینئرنگ، مکینیکل انجینئرنگ، سول انجینئرنگ، قابل تجدید توانائی اور ارضیات کے شعبوں میں تعلیم حاصل کی آر ڈی ایم سی نے بلوچ طلبا کو تلاش کرنے کی شعوری کوشش کی کیونکہ صوبے میں تاریخی طور پر روزگار اور تربیت کے مواقع نے مختلف تعلیمی اداروں جیسے کہ بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی محدود رہے ہیں۔ آر ڈی ایم سی نے مختلف تعلیمی اداروں سے رابطہ کیا جن میں بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ جامعہ بلوچستان اور بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمینشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ منیجمنٹ سائنسز شامل ہیں۔ آر ڈی ایم سی نے رواں سال جولائی میں اس پروگرام کو مختلف قومی اخبارات کے ذریعے مشتہر کیا تھا۔ آر ڈی ایم سی کے ایچ آر مینیجر ندا یوسف نے کہا کہ یہ ان نوجوان گریجویٹس کے لیے زندگی کو بدلنے والا ایک زبردست موقع ہے۔ وہ ارجنٹائن میں بیرک کے اثاثوں میں جاکر کام گے اور ملازمت کی تربیت کے ساتھ ساتھ کان کنی میں قابلیت کی نشوونما کے علوم بھی حاصل کریں گے۔ آخر کار ہم ان روشن پیشہ ور افراد کے پاکستان واپس آنے اور ریکوڈک مائن میں انسانی وسائل کے قدر میں اضافے کے منتظر ہیں۔ بیرک انٹرنیشنل گریجویٹ پروگرام کے ذریعے بلوچستان سے فارغ التحصیل ہونے والوں کا یہ پہلا گروپ ہے۔ بیرک کے فلسفے کے مطابق یہ کان کنی آپریشن چاغی سے لے کر صوبہ بلوچستان اور درحقیقت میزبان ملک پاکستان کے لیے مقامی کمیونٹیز کی معیار زندگی بہتر بنائے گا۔ریکوڈک ایک عالمی معیار کی تانبے اور سونے کی کان ہے جو پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے کاپر گولڈ پراجیکٹس میں سے ایک، ریکوڈک کا 50% بیرک، 25% تین وفاقی سرکاری اداروں کے پاس، پچیس فیصد صوبہ بلوچستان کے پاس ہے۔ بیرک اب اس منصوبے کی 2010 کی فزیبلٹی اور 2011 کی فزیبلٹی کو اپ ڈیٹ کر رہا ہے جسے 2024 تک مکمل ہونا ہے جبکہ 2028 کو پہلی پیداوار کا ہدف دیا گیا ہے۔ریکوڈک کم از کم 40 سالہ کثیر نسل کان ہو گی۔ یہ منصوبہ ٹرک اور بیلچے کے کھلے گڑھے کے آپریشن کے طور پر پروسیسنگ کی سہولیات کے ساتھ ایک اعلی معیار کا تانبے اور سونا پیدا کرے گی۔ 80 ملین ٹن سالانہ کی مشترکہ پیداواری صلاحیت رکھنے والی ریکوڈک کی تعمیر دو مرحلوں میں متوقع ہے۔ ریکوڈک کے تعمیر کی عروج کے دوران اس منصوبے میں 7,500 افراد کو ملازمت کے مواقع دینے کی توقع ہے اور ایک بار پیداوار میں آنے کے بعد یہ 4,000 طویل المدتی ملازمتیں پیدا کرے گا۔ مقامی سطح پر روزگار کے مواقوں اور مقامی سپلائرز کوترجیح دینے کی پالیسی کا مقامی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔ کمپنی 2024 کے آخر تک ریکوڈک کی فزیبلٹی اسٹڈی اپ ڈیٹ کومکمل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے بعد 2028 کو ملک کے صوبہ بلوچستان میں تانبے اور سونے کی دیوہیکل کان سے پہلی پیداوار کا ہدف دیا گیا ہے۔ریکوڈک منصوبہ پاکستان کی معیشت میں اپنا حصہ ڈال کر اہم کردار ادا کرے گی جس سے صوبہ بلوچستان پر تبدیلی کے اثرات مرتب ہوں گے جہاں اس سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کے علاوہ کان سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، علاقائی معیشت کی نمو کو فروغ ملے گا اور سرمایہ کاری ہوگی۔


