بلیو اکانومی کی ترقی بلوچستان سمیت پورے خطے کا معاشی جمود توڑ سکتی ہے، عبدالولی کاکڑ
کوئٹہ (این این آئی) گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں بلیو اکانومی کی ترقی پورے خطے کے معاشی جمود کا خاتمہ کرسکتی ہے۔ طویل کوسٹل بیلٹ میں موجود سمندری وسائل بروئے کار لانے اور ان سے وابستہ معاشی سرگرمیوں کا فروغ ایک نئے معاشی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اس ضمن میں ضروری ہے کہ یونیورسٹی آف گوادر سمیت مکران بیلٹ کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیز خصوصی طور پر بلیو اکانومی ریونیو جنریشن کو اپنے اسٹریٹیجک پلان کا لازمی حصہ بنا لے۔ گورنر بلوچستان نے یونیورسٹی آف گوادر کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور ان کی پوری ٹیم کی انتھک کاوشوں کو خراج تحسین کے مستحق قرار دیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف گوادر کے پہلے سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ کے جج جسٹس ہاشم خان کاکڑ، وائس چانسلر یونیورسٹی آف گوادر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، صوبائی سیکرٹری دوستین جمالدینی، وائس چانسلر لسبیلہ یوبیورسٹی ڈاکٹر دوست محمد بلوچ، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان ہاشم خان غلزئی، پرو وائس چانسلر میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی ڈاکٹر مشتاق شاہ، ایڈیشنل سیکرٹری فنانس ممتاز لانگو، ایڈیشنل سیکرٹری شکیل، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ظہور احمد بازئی سمیت گوادر یونیورسٹی کے تمام سینیٹ کے ممبرز موجود تھے۔ گوادر یونیورسٹی کے سینیٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا کہ یونیورسٹی کا مقصد ریسرچ پر مبنی جدید تعلیم کا فروغ ہے اور اپنی نئی نسل کو جدید سائنٹفک علم وشعور سے آراستہ کر کے ہی ایک خودکفیل اور ترقی یافتہ بلوچستان کے ہدف کا حصول ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ یونیورسٹی کے امور و معاملات کو بہتر طریقے سے چلاتے کیلئے بروقت دانشمندانہ فیصلے کرنے ضروری ہے اور اچھے فیصلوں کے ہی اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آپ خود اپنے معروضی حالات کا درست جائزہ لیکر نئے مسقبل کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ گورنر بلوچستان نے ان وائس چانسلر پر زور دیا کہ سنڈیکیٹ کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور اس میں بہتر تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ سنڈیکیٹ کے فیصلے سینٹ میں آجاتے ہیں۔ سینٹ شرکائ کی سفارشات اور تجاویز کی روشنی میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔


