وفاقی اور صوبائی حکومت عوام پر رحم کھائے، نیب کی بدعنوانوں کیخلاف کارروائی میں تعاون کریں گے، رﺅف خان ساسولی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) جمہوری وطن پارٹی کے سابقہ مرکزی سیکرٹری جنرل سینئر بلوچ رہنما ر?ف خان ساسولی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن بلوچستان پا? سے سر تک کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے۔ گزشتہ 20 سالہ ادوار میں جو بھی سیکرٹری صاحبان آئے انہوں نے انتظامی امور پر کم توجہ دی، وفاقی مفادات پر دھیان نہیں دیا، مال بٹورنے مصروف رہے، ان کے دور میں ان کے من پسند ڈی سی اور اے سی ایسے علاقوں میں تعینات رہے جنہوں نے انتظامی امور پر توجہ نہیں دی بلکہ چیف سیکرٹری صاحبان کے بیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے پنجگور، گوادر، تربت، چاغی، واشک میں بڑا مال پانی بنایا اور چیف سیکرٹری صاحبان کو بھی مالا مال اور کئی کارخانوں کا مالک بنا دیا۔ سننے میں آیا ہے کہ اب نیب کو دوبارہ اپنی اصل شکل میں لاکر دیانت دار افسران کو تعینات کرکے کرپٹ مافیا کیخلاف کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے۔ بلوچستان میں اگر نیب نے بدعنوان لوگوں کیخلاف کارروائی کا آغاز کیا تو بلوچستان کے لوگ بھی نیب افسران کا ساتھ اور بدعنوان لوگوں کی نشاندہی کرنے میں بھی تعاون کریں گے۔ کیونکہ کرپشن نے بلوچستان کے لوگوں سے جینے کا حق بھی چھین لیا ہے۔ گزشتہ 20 برس سے بلوچستان کے کسی بھی غریب کو نوکریاں نہیں دی گئیں بلکہ مالداروں میں نوکریوں کی تقسیم اور فروخت کا گھنا?نا کاروبار کیا گیا جو آج دن تک جاری ہے۔ وفاق میں اگر کسی رحم دل نے رحم کھا کر کچھ غریب نوجوانوں کو نوکریاں دی بھی ہیں تو نہ ہی اسلام آباد میں حکومت کی جانب سے بنائے گئے سرکاری رہائشگاہوں میں اور نہ ہی بلوچستان میں سرکاری ملازمین کیلئے بنائی گئی رہائش گاہوں میں انہیں رہائش دی گئیں۔ اسلام آباد میں بلوچستان والوں کیلئے جو رہائشی اسکیمیں بنائی گئی ہیں ان میں کئی بااثر شخصیات کی رہائش تو ہے لیکن غریب ملازمین کیلئے کوئی جگہ نہیں۔ کئی غریب ملازمین کم تنخواہ ہونے اور سرکاری رہائش نہ ہونے کے باعث اپنی نوکریاں بھی چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ لہٰذا نگراں وفاقی حکومت کو چاہیے کہ مرکزی حکومت میں بھی زیادہ تر لوگ جو مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے مسائل حل کرکے ان کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ اور سرکاری رہائش گاہیں فراہم کی جائیں تاکہ وہ وفاق میں رہ کر اپنی نوکریوں کو احسن طریقے سے سرانجام دیں۔ نگراں صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ ہے کہ گزشتہ ادوار میں تو غریب لوگوں کو سرکاری نوکریاں نہیں مل سکیں حالیہ دور میں نگراں صوبائی حکومت غریب عوام پر کچھ رحم کھاتے ہوئے انہیں سرکاری نوکریوں کی فراہمی یقینی بنائیں اور بلوچستان کے مڈل کلاس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ اور سرکاری رہائش گاہیں فراہم کی جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں