وندر کے سب سے بڑے آبی منصوبے وندر ڈیم کا کام بند ہوگیا

وندر(یو این اے )وندر کے سب سے بڑے آبی منصوبے وندر ڈیم کا کام بند ہوگیا سینکڑوں مزدوروں کے چولھے بجھ گئے 11 ارب روپے سے زائد کی لاگت کے منصوبے سے 12 ہزار ایکڑ زمینیں سیراب اور ہزاروں لوگوں کے پینے کا پانی میئسر ہونا تھا جس کی تکمیل 2024 میں ہونی تھی لیکن سیاسی مداخلت کی وجہ سے اربوں روپے کا پروجیکٹ خطرے میں پڑھ گیا ڈیم حکام نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ شدید مہنگائی اور نامناسب ملکی معاشی حالات کے پیش نظر ایسے بڑے منصوبوں کو چلانا پہلے سے ہی مشکل ہوچکاہے بڑی مشکل سے 52 فیصد کام مکمل کیا ہے۔ پروجیکٹ کے آغاز پر ڈیزل 120 روپے لیٹر تھا اب 300 روپے فی لیٹر سے زائد ہوگیا ہے اور تعمیراتی کام میں اسطرح روڑے اٹکائے جاتے رہے تو یہ منصوبہ مقررہ مدت تک پورا نہیں ہوگا اس کا نقصان علاقے کے ساتھ قومی خزانے کو بھی ہوگا۔ ڈیم سائیٹ پر 750 ملازمین برسر روزگار ہیں اس موقع پر مزدوروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم دور دراز علاقوں سے آئے ہیں اور بعض مقامی ہیں لیکن کام بندش کی وجہ سے ہم بیروزگار ہوگئے ہیں کروڑوں کی مشینری سڑ رہی ہے ہمارے بچے ہم سے آس لگائے ہوئے ہیں کہ ہم ان کے لیے رزق کی تلاش میں ان سے دور ہیں لیکن انہیں کیا معلوم کہ ہم سے یہاں روزگار چھن چکا ہے اور ہم بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں انہوں نے حکومت بلوچستان، محکمہ ایریگیشن ودیگر ذمہداران سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر وندر ڈیم کے کام کا آغاز کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں