ایشین گیمز،افغان خواتین کی والی بال ٹیم ہانگزو کیسے پہنچی ؟

ہانگزو (مانیٹرنگ ڈیسک)افغان خواتین کی والی بال ٹیم ہانگزو میں ہونے والے کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے تنازعات، جلاوطنی اور اپنے گھر والوں کو ملنے والی دھمکیوں کا سامنا کیا ۔افغانستان میں خواتین کے کھیلوں پر طالبان نےاس وقت سے پابندی لگا دی تھی جب وہ 2021 میں اقتدار میں واپس آئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین جانے والے افغانستان کے 120 سے زیادہ کھلاڑیوں، کوچز اور سپروائزرز پر مشتمل اسکواڈ میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے۔افتتاحی تقریب میں بھی جب ٹیموں کا تعارف کروایا گیا تو افغانستان کی ٹیم میں کوئی خاتون شامل نہیں تھی۔لیکن بیرون ملک کھیلوں کی تنظیموں کی مدد سے ایک درجن سے زائد غیر ملکی افغان خواتین ان مقابلوں میں حصہ لے رہی ہیں، جن میں سے زیادہ تر خواتین والی بال ٹیم میں شامل ہیں۔25 سالہ مڈل بلاکر مرسل خدری نے اتوار کو جاپان کے خلاف 3-0 کی شکست کے بعد اے ایف پی کو بتایا، "میرے خیال میں یہ افغان خواتین کے لیے ایک بڑی امید ہے، کہ انھوں نے اپنے خوابوں کو ترک نہیں کیا، انھیں اپنے خوابوں پر عمل کرنا ہے۔”جب افغان ٹیم نے جاپان کے خلاف اپنا پہلا پوائنٹ تاخیر سے حاصل کیا تو تماشائیوں نے بہت جوش سےتالیاں بجائیں ۔ اور اگرچہ خواتین کی ٹیم دونوں میچوں میں 3-0 سے نیچے چلی گئی، لیکن یہاں تک پہنچنے پر فخر کا ایک مضبوط احساس ان میں موجودتھا۔12 رکنی افغان اسکواڈ کی ٹیم نے ہفتے کے آخر میں قازقستان کے خلاف بھی مقابلہ کیا اور اپنے زیادہ تجربہ کار حریفوں سے شکست کھانے کے باوجود ان کا جوش و جذبہ بلند رہا۔ سر کو اسکارف سے ڈھانپے اور لیگ ا نگز (لمبے پاجامے) پہنے ہوئے خواتین کھلاڑی میچ کے آغاز میں میدان میں بھاگتے ہوئے ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے دکھائی دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں