پاکستان کے نگراں وزیرِ خارجہ کی طالبان ہم منصب سے ملاقات
پاکستان کی وزراتِ خارجہ کے مطابق نگراں وزیرِ خارجہ جلیل عباس جیلانی نے افغانستان کی طالبان حکومت میں عبوری وزیرِ خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی ہے۔یہ ملاقات چین کی میزبانی میں تبت میں ہونے والے ’ٹرانس ہمالین فورم فور انٹرنیشنل کوآپریشن‘ کے اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ہوئی۔ ملاقات میں وزیرِ خارجہ نے افغانستان کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنے کا اعادہ کیا اور علاقائی امن کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر زور دیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کی حکومت ملک میں مقیم غیر ملکی افغان پناہ گزینوں کے انخلا کے لیے یکم نومبر کی مہلت کا اعلان کر چکی ہے جس پر طالبان حکام کی جانب سے ردِ عمل سامنے آرہا ہے۔دوسری جانب طالبان کی وزارتِ خارجہ کے نائب ترجمان حافظ ضیاء احمد تکل نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ملاقات سے متعلق کہا ہے کہ عبوری وزیرِ خارجہ نے پاکستان پر واضح کیا ہے کہ میڈیا کے منفی بیانات، راہداری اور سفر میں رکاوٹیں ڈالنے اور افغان مہاجرین کو ہراساں کرنے سے دوطرفہ تعلقات اور دونوں ممالک کی اقتصادی صورتِ حال متاثر ہو گی۔ ایسے فیصلے ٹھنڈے دل و دماغ سے ہونے چاہئیں۔طالبان عہدے دار کے مطابق پاکستانی وزیرِ خارجہ نے متنازع مسائل بات چیت اور افہام و تفہیم سے حل کرنے پر اتفاق کیا۔


