بلوچستان میں آن لائن کلاسوں کا نظام کسی بھی صورت قابل عمل نہیں،طلباء کو رہا کیاجائے،جمال شاہ کاکڑ

کوئٹہ۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صوبائی جنرل سیکرٹری و سابق اسپیکر جمال شاہ کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں آن لائن کلاسوں کا نظام کسی بھی صورت قابل عمل نہیں ہے، صوبے کے 90فیصد علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے جسکی وجہ سے طلباء و طالبات آن لائن کلاسیں نہیں لے سکتے،پر امن،جمہوری اور جائز مطالبات کے لئے احتجاج کرنے والے طلباء کی گرفتاری قابل مذمت ہے حکومت مستقبل کے معماروں کو سہولیات دینے کی بجائی انہیں تھانوں میں بند کررہی ہے جس سے نوجوانوں کی ذہنی نشونما پر منفی اثرات مرتب ہونگے، یہ بات انہوں نے بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے والے طلباء کی گرفتاری پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہی، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کئی نوجوان ریاست اور حکومت کے روئیے کی وجہ سے غلط راستے پر چل پڑے تھے اب جب بہت کوششوں کے بعد یہ نوجوان ایک بار پھر نارمل زندگی گزارکر تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں گرفتار کرکے تھانوں میں مجرموں کے ساتھ بند کیا جارہا ہے جس سے ایک بارپھر نوجوان بھٹک سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ خواتین ہماری مائیں بیٹیاں ہیں جو آن لائن کلاسوں کی مشکلات اور تعلیم کے حصول کے لئے احتجا ج کر رہی تھیں ان گرفتار کرکے حکومت نے ایک بار پھر روایات کو پامال کیا ہے ایسے اقدامات کرکے حکومت کیا پیغام دینا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ طلباء وطالبات جائز مطالبات لیکر جمہوریت کے اعلیٰ ایوان یعنی صوبائی اسمبلی کے سامنے آئے تا کہ انکے منتخب کردہ نمائندے انکی بات سنیں ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ وزیر تعلیم، وزیرداخلہ سمیت دیگر وزراء طلباء و طالبات کے مسائل سنتے اور انکے حل کے لئے اقدامات کرتے لیکن اس کے برعکس انہیں مجرموں کی طرح گرفتار کیا گیا اودفعہ 144کی خلاف ورزی کا الزام عائد کردیا گیا جبکہ یہ دفعہ 144کیا حکومتی جماعت کے حق میں ریلیاں نکالنے والوں پر لاگو نہیں ہوتی؟ جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں غربت کے مارے طلبا ء لیپ ٹاپ سمیت دیگر مہنگی آسائشیں خریدنے سے قاصر ہیں جبکہ حکومت کو اگر آن لائن کلاسیں دینے کا شوق ہے تو وہ پہلے صوبے بھر میں بند انٹرنیٹ سروس کو بحال اور طلباء کو لیپ ٹاپ فراہم کرے لیکن اس حکومت نے آتے ہی نواز شریف کی جاری لیپ ٹاپ اسکیم بند کردی آج اگر وہ اسکیم جاری ہوتی تو کئی طلبا آن لائن کلاسوں میں تعلیم حاصل کر سکتے تھے، انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر گرفتار طلبا ء کو رہا کرے اور جلد از جلد طلباء کے مسائل کا ازالہ کرے اور مسائل حل ہونے تک آن لائن کلاسوں کو روکاجائے

اپنا تبصرہ بھیجیں