تربت، آن لائن کلاسز کے اجراء کے خلاف بی ایس او پجار کے زیر اہتما م احتجاجی مظاہرہ

تربت: بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) تربت زون کے زیراہتمام ایچ ای سی کی جانب سے آن لائن کلاسزکے اجراء کے خلاف تربت میں احتجاجی مظاہرہ کیا، مظاہرے میں بی ایس او پجار کے کارکنان سمیت بی ایس او، نیشنل پارٹی، بی این پی مینگل، پی این پی عوامی، جے یو آئی کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی، مظاہرے کے شرکاء نے نیشنل پارٹی کے دفتر سے نعرہ بازی کرتے ہوئے شہید فداچوک سے براستہ مین روڈ تربت پریس کلب تک مارچ کیا انہوں نے ایچ ای سی اورحکومت کی تعلیم دشمن پالیسیوں کے خلاف نعرہ بازی کی، طلباء نے ہاتھوں میں بینرز اورپلے کارڈز اٹھارکھے تھے، بی ایس اوپجارکے مرکزی رہنما عابد عمرنے آن لائن کلاسز کے اجراء کو مکران سمیت صوبہ کے پسماندہ علاقوں کے طلباء وطالبات کے ساتھ مذاق قراردیتے ہوئے کہاکہ ایچ ای سی یہ کہتاہے کہ احتجاج وہ طلباء کررہے ہیں جوپڑھنانہیں چاہتے ہم پڑھنا چاہتے ہیں ایچ ای سی سہولیات دے، طلباء کو گھروں پر انٹرنیٹ کی سہولت دی جائے یاپھر انہیں کسی ہاسٹل میں رکھ کر رہائش، کھانا پینا اور انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ آن لائن کلاسز لے سکیں، انٹرنیٹ کے بغیر یہ کہنا کہ طلباء پڑھنا نہیں چاہتے،یہ تعلیم دشمنی کے سواکچھ نہیں ہے،بی ایس اوپجارکے مرکزی کمیٹی کے رکن بوہیر صالح نے کہاکہ ایچ ای سی کایہ فیصلہ طلباء وطالبات کے بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے انہوں نے کہاکہ اس وقت طلباء سراپا احتجاج ہیں اساتذہ سراپا احتجاج ہیں، حکومت کی خواہش ہے کہ طلباء تعلیم سے دور رہیں اورمنفی سرگرمیوں کی جانب راغب ہوجائیں انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی آف تربت نے بھی عجیب وغریب دھندہ شروع کیاہے کرونا وباء کی وجہ سے ملک بھرکے تعلیمی ادارے بندہیں، یونیورسٹی آف تربت پیپر تماشا رچارہی ہے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے طلباء وطالبات اپنے حقوق پر کسی قسم کی کمپرومائز نہیں کریں گے، بی ایس اوپجارکے مرکزی کمیٹی کے رکن سراج سخی نے کہاکہ ایچ ای سی کو زمینی حقائق کا ادراک نہیں، ان کا یہ فیصلہ صرف اسلام آبادکے ایلیٹ کلاس کیلئے ہے، بلوچستان، کے پی کے اورسندھ کے ہزاروں طلباء وطالبات کا سمسٹر اورتعلیمی سال ضائع جانے کا خدشہ ہے، پاکستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی سیکرٹری ہیومن رائٹس خان محمدجان نے کہاکہ کرونا مافیاکی وجہ سے طلباء وطالبات کی تعلیمی سلسلہ شدید متاثرہورہی ہے، ہمارے وزیر تعلیم بجٹ سیشن میں جب آرام فرمارہے ہوں تو ان کی تعلیم سے دلچسپی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیرمیں انٹرنیٹ کی بندش پر پورا پاکستان سرپر اٹھایاجاتاہے مگر یہاں پر3سالوں سے انٹرنیٹ بند ہے مگرکسی کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی، بی این پی مینگل کے رہنما عبدالواحدبلیدی نے کہاکہ اسلام آبادمیں بیٹھے حکمرانوں اورپالیسی سازوں کوکیا معلوم ہے کہ بلیدہ اور دشت کی کیا صورتحال ہے، بلیدہ زامران، دشت تمپ کولواہ میں انٹرنیٹ اپنی جگہ صحیح معنوں میں موبائل نیٹ ورک بھی دستیاب نہیں، بغیر انٹرنیٹ کے آن لائن کلاسز کیسے ہوسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ کرونا کے بہانے پر تعلیمی ادارے بند ہیں مگر رش والی مارکیٹیں کھلی ہیں اور جہاں پر کرونا ایس اوپیز پرعملدرآمدکا نام ونشان نہیں ہے، حکومت فوری طورپر ایس اوپیز کے تحت تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کرے، نیشنل پارٹی کے صوبائی وحدت کمیٹی کے رکن مشکور انور نے کہاہے کہ بلوچستان بھرسے طلباء وطالبات کا آن لائن کلاسز کے خلاف احتجاجی مظاہرے ایچ ای سی کے فیصلے پرعدم اعتمادکااظہارہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ اس طرح کے فیصلے حقائق کو مدنظر رکھ کر کرے، آن لائن کلاسز انٹرنیٹ کے بغیر ممکن نہیں ہیں، حکومت فوری طورپر موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا کھول دے اور تمام قومیتوں کو برابری کی بنیاد پرمواقع فراہم کرے تاکہ تمام قومیتیں یکساں ترقی کرسکیں، بی ایس او تربت زون کے رہنما کریم شمبے بلوچ نے کہاکہ بلوچ کو ہردورمیں اپنے جائز حق کیلئے احتجاج کا راستہ اختیارکرنے پرمجبورکیاگیا ہے، بلوچ طلباء کے خلاف ہردورمیں سازشیں رچائی گئی ہیں تعلیم دشمن اقدامات کے ذریعے بلوچ طلباء کوتعلیمی میدان میں پسماندہ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے، ایچ ای سی کے طارق بنوری بات سننے کیلئے تیارنہیں، انہوں نے کہاکہ وزیرتعلیم جب نیند سے بیدارہوں تو ان کے علم میں یہ بات لائی جائے کہ کیچ میں انٹرنیٹ سروس دستیاب نہیں ہے، رائزنگ یوتھ کی زرگل زبیرنے کہاکہ یہ احتجاج ایچ ای سی کے خلاف نہیں بلکہ انٹرنیٹ سروس کے بغیر آن لائن کلاسز کے اجراء کے فیصلے کے خلاف ہے، بلوچستان کے طلباء گزشتہ کئی ہفتوں سے احتجاج پرہیں مگر صوبائی حکومت اس سلسلے میں مکمل طورپر مجرمانہ خاموشی اختیارکرچکی ہے،بی ایس اوپجارتربت زون کے رہنما باہوٹ چنگیز، قائم مقام صدر یعقوب ستار اورمہران ناصرنے کہاکہ بلوچستان کے طلباء وطالبات 2ماہ سے چیخ رہے ہیں کہ نیٹ کی سہولت نہیں ہے مگر ایچ ای سی آن لائن کلاسزکے نام پر ڈرامہ بازی میں مصروف ہے، بے حس حکمرانوں نے روزی روٹی پہلے سے چھین لی ہے امن وسکون چھین لی ہے اب خدارا غریب کے بچے سے تعلیم کا حق مت چھینو، مظاہرہ میں بی این پی کے ضلعی صدرشے نزیر احمد، جے یو آئی کے باسط فیضی، مولانا محمد علی شیرانی، پی این پی عوامی کے رہنماخالد رضا، نیشنل پارٹی کے رہنما فضل کریم، قادربخش بلوچ، بی ایس اوپجارکے رہنما نجیب ڈی ایم ودیگر رہنماشریک تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں