مشرقی بائی پاس گنج پڑی میں سہولیات کا فقدان، بھاری فیس وصولی سمجھ سے بالاتر ہے، تاجران و دکانداران

کوئٹہ (آن لائن) مرکزی صدر انجمن تاجران و دکانداران بلوچستان امر الدین آغا، چیئرمین ٹکری حمید بنگلزئی، صدر بکرا پیڑی ، میر نوید و دیگر نے کہا کہ مشرقی بائی پاس گنج پڑی میں سہولیات کا فقدان ہے اور چونگی ٹیکس 50 روپے ہے جبکہ ٹھیکیدار اور میونسپل کمیٹی 150 روپے فی جانور لے رہے ہیں جوکہ بیو پاریوں کے ساتھ ظلم و زیادتی ہے اسے کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار جمعرات کو کوئٹہ پریس میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کمیٹی کارپوریشن کوئٹہ اور ٹھیکیدار بیوپاریوں کو تنگ کرکے ان سے زبردستی فی جانور 150 روپے چونگی ٹیکس وصولی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جوکہ ظلم و زیادتی اس سے پہلے فی جانور 25 اور پھر 50 روپے اب 150 روپے وصول کیا جارہا ہے غیر قانونی طور پر چوکوں چوراہوں پر چونگی ٹیکس وصولی کا سلسلہ جاری جبکہ چونگی ٹیکس صرف پیڑی کے اندر لیا جاتا ہے۔ کوئٹہ کے بکرا پڑی میں ملک سمیت بلوچستان بھر سے جانور لائے جاتے ہیں ہر جگہ اگر ان سے ٹیکس وصولی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ملک کے دوسرے علاقوں میں تمام بکرا منڈیوں میں پانی کا چھڑکا? کیا جاتا ہے اور چار دیواری کا بھی بندوبست کیا گیا ہے جبکہ کوئٹہ میں تمام سہولیات کا فقدان ہمیشہ پڑی میں مٹی اڑتی رہتی ہے لوگ اور کاروبار کرنے والے سانس سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں اس کے باوجود بھاری فیس وصولی سمجھ سے بالاتر ہے کروڑوں روپے ٹیکس کی مد میں وصول کئے جاتے ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں 150 روپے ٹیکس کی بجائے پرانا ریٹ لیا جائے تاکہ غریب بیو پاریوں کا معاشی نقصان نہ ہو۔ بھاری فیس نہ دینے کی صورت میں مال مویشی لے جاتے ہیں جس کی ہم کسی صورت اجازت نہیں دیں گے اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو ہم بھر پور احتجاج کریں گے جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں