وڈھ میں ڈیرہ بگٹی طرزپر آپریشن کا نعرہ ڈھونگ کے سوا کچھ نہیں، قتل عام روکا جائے، جھالاوان عوامی پینل

کوئٹہ (آن لائن)جھالاوان عوامی پینل کے مرکزی رہنمائ ندیم الرحمن بلوچ نے کہا کہ وڈھ میں محب وطن اور نظریہ پاکستان کی بات کرنے والوں کا قتل عام منصوبہ بندی کے تحت جاری ہے۔ وڈھ کا علاقہ باڈڑی چھوٹا پاکستان ہے اس علاقہ کے لوگوں نے پاکستان کے مخالفین کے حربوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے بھر پور کردار ادا کرکے پاکستان کے دفاع کے لئے اپنی جانوں کا نذانہ پیش کیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی طرزپر آپریشن کا نعرہ ڈھونگ کے سوا کچھ نہیںان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کیا ان کا کہنا تھا کہ میر شفیق الرحمن مینگل وڈھ میں اپنا تحفظ قانونی، آئینی، جمہوری اور قبائلی طریقے سے نبھارہے ہیں۔ ایک سازش کے تحت بلوچستان پر بیرونی جنگ مسلط کرکے بے گناہ لوگوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔ راہ گیر، ڈرائیوروں اور اہل علاقہ کو فائرنگ کرکے نا حق قتل کیا جارہا ہے وڈھ میں جاوید مینگل کے کیمپ موجود ہیں جس میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کیلئے ٹریننگ دی جارہی ہے جس سے بے گناہ لوگ لقمہ اجل بن رہے ہیں۔ جھالاوان کے چوکوں، چوراہوں پر قتل عام کا بازار گرم کیا گیا ہے۔ وڈھ کے علاقہ لوئی میں کالعدم تنظیموں کے لوگ موجود ہیں وہاں سے چروا?ں، مسافر گاڑیوں اور اہل علاقہ پر مسلسل حملے کئے جارہے ہیں۔ ہم دعوت دیتے ہیں بلوچستان کے لوگوں اور صحافیوں کو کہ علاقہ کا جائزہ لیکر لوگوں سے تحقیقات کرکے بے گناہ لوگوں کے قتل عام کا معلوم کیا جائے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ لشکر کشی مخالفین کی جانب سے کرکے جنگ مسلط کرنے کی ناپاک کوشش اور حملے کئے جارہے ہیں اور میڈیا کے ذریعے نعروں کے ذریعے ڈیرہ بگٹی طرز آپریشن کے جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں تاکہ ہمیں مکمل طور پر قتل عام کا لائسنس مل سکے۔ اقتدار میں رہ کر شہباز شریف اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور اسٹیبلشمنٹ کے ذمہ داروں کے ساتھ ملاقات کرکے وڈھ میں ایف سی کی تعیناتی کا مطالبہ کیا تھا اب لوگوں کو بے وقوف بناکر پروپیگنڈے کرکے اداروں پر الزامات لگارہے ہیں۔ نصیر مینگل کا علاقہ باڈڑی کے لوگ پر امن اور اپنے دفاع کے لئے گزشتہ 15 سالوں سے مورچے بنارکھے ہیں۔ مخالفین کے کیمپوں میں ساڑھے تین سو سے زائد لوگ جبری طور پر قید رکھے ہیں ان پر اذیتوں کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اور لوگوں کی سینکڑوں ایکڑ زرعی زمینیں قبضہ کئے گئے ہیں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ غریب لوگوں کی زرعی زمینوں کو ان کے قبضہ سے واگزار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کا معاشی قتل عام جاری ہے 500 ٹیوب ویلوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا ہے حکومتی سرپرستی میں اساتذہ، ڈاکٹروں کو ڈیوٹیوں پر لے جایا جاتا ہے جوکہ علاقہ کے لوگوں کے ساتھ ظلم و بربریت ہےں۔ جھالاوان پینل کے 180 لوگوں کو شہید کردیا گیا ہے اور اب بھی میر شفیق الرحمن مینگل کے سپورٹروں، ووٹروں کو ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے کسی صورت مرعوب نہیں ہوں گے اور ان کے بھکاوے اور دھونس میں دھمکیوں میںنہیں آئیں گے اپنے دفاع کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں