بلوچستان کے نجی سکول مالکان کے لیے پیکج کا اعلان کیا جائے، سردار یعقوب ناصر
لورالائی: مسلم لیگ ن کے مرکزی سینئر نا ئب صدر سینٹ کے سیٹنڈنگ کمیٹی بین الصوبائی رابطہ کے چیئرمین سینیٹر سردار محمد یعقوب خان ناصر نے کہا ہے کہ میں صوبائی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ تمام صوبے کے اٹھائیس ہزار سے زائد پرائیوٹ اسکولز کے مالکان کو خصوصی پیکج کا اعلان کریں تاکہ چند ماہ سے انکے اسکولز کی بندش کی وجہ سے جو نقصان پہنچا اسکی تلافی ممکن ہو سکے انہوں نے کہا کہ حکومت ایس او پیز کے تحت ان تمام اسکولز کو فوری کھولنے کی اجازت دیں تاکہ بچوں کا بھی وقت ضائع نہ ہو اور اسکولز مالکان بھی ایک بہت بڑے نقصان سے بچ سکیں ان اداروں کی تعلیم کے شعبے میں خدمات قابل قدر ہیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اپوزیشن پارٹیوں کے جاری احتجاج کی مکمل حمایت کرتا ہوں حکومت ہر معاملے اور ترقیاتی امور میں اپوزیشن کو نظر انداز اور انکے حلقوں میں مداخلت کر رہی ہے اپوزیشن کے منتخب اراکین کو بھی اپنے عوام کی خدمت کیلئے انھیں فنڈز ملنے چاہیئے انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ کو ہم مسترد کرتے ہیں یہ بجٹ ائی ایم ایف کا بنا یا گیا ہے عوام کے فلاح وبہبود کیلئے اسمیں کچھ نہیں اور سرکاری ملازمین کو کم ازکم بیس فیصد الاونس ملنا چاہیئے تھا جوکہ نہیں دیا گیا جس سے ملازمین میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ ملک کی اس سے بڑی بد قسمتی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ہماری کابینہ اور وزیر اعظم ایک پیج پر نہیں ہیں ہر کابینہ اجلاس کے بعد حکومتی ترجمانوں اور وزیروں و معاون خصوصی کے الگ بیانات تضادات پر مبنی سامنے آرہے ہیں اس سے عوام اور دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس پر سرے سے ہی حکومت کی کوئی ٹھوس پالیسی نہیں ہے عوام کو بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں ملا لیکن اسکے باوجود حکومت کہہ رہی ہے کہ یہ مناسب بجٹ ہے اس پر افسوس ہی کیا جسکتا ہے انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحادی بھی اب حکومت سے نالاں نظر آرہے ہیں جے ڈبلیوپی اور بی این پی مینگل حکومتی اتحاد سے الگ ہونے کا فیصلہ کر چکی ہیں جبکہ ایم کیو ایم بھی اتحاد سے الگ ہونے کیلئے پر تول رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی نے غریب کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے ملک میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باجود عوام اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکے ملک میں یہی صورتحال کچھ عرصہ اور رہی تو عوام سڑکوں پر انے پر مجبور ہو جائینگے ہم حکومت کو مدت دینا چاہتے ہیں لیکن حکومت خود ڈیلیور نہیں کر پارہی ہے نہ عوام کو دو سالوں میں پچاس لاکھ گھر ملے اور نہ ہی ایک کروڑ نوکریاں ملیں انہوں نے کہا کہ لگ رہا ہے کہ وزیر اعظم عہدے سے الگ ہونا چاہتے ہیں لیکن لانے والے طاقتیں انھیں ایسا کرنے سے منع کر رہے ہیں


