لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر واٹر اینڈ میرین سائنسز اوتھل مالی بحران کا شکار، ملازمین تنخواہوں سے محروم

اوتھل(یو این اے)لسبیلہ یونیورسٹی اف ایگریکلچر واٹر اینڈ میرین سائنسز اوتھل مالی بحران کا شکار، ملازمین تنخواہیں سمیت دیگر جائز مراعات سے محروم، انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور غیر پیشہ ورانہ حکمت عملی نے ادارہ کو پانچ ارب روپے کا مقروض بنا دیا،ملازمین اور طلبا کا مستقبل تاریک ہونے خدشہ، باوثوق ذرائع کے مطابق لسبیلہ یونیورسٹی اف ایگریکلچر واٹر اینڈ میرین سائنسز اوتھل مالی بحران کا شکارہوگئ ہے۔ یونیورسٹی کے سینکڑوں ملازمین تنخواہیں سمیت دیگر جائز مراعات سے محروم ہیں۔ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی اور غیر پیشہ ورانہ حکمت عملی نے ادارہ کو پانچ ارب روپے کا مقروض بنا دیا،ملازمین اور طلبا کا مستقبل تاریک ہونے خدشہ ہے۔لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر واٹر اینڈ میرین سائینسر اوتھل جہاں پر بلوچستان کے علاوہ ملک بھر سے طلبا و طالبات تعیلم حاصل کررہے ہیں ساتھ ہی میں سینکڑوں ملازمین بھی کام کررہے ہیں۔حالیہ مالی بحران سے ان کا مستقبل تاریک ہونے کا احتمال۔کیونکہ یونیورسٹی میں مالی بدانتظامی اور انتظامیہ کی غیر پیشہ ورانہ حکمت عملی اور ناقص انتظامی امور کے پیش نظر ملازمین ماہانہ تنخواہوں اور DRA ایڈونس کی مد میں بے پناہ مسائل سے دوچار ہیں کئی ماہ ملازمین جائز مطالبات کی غرض سے دربدر ہیں کوئی شنوائی نہیں کی جارہی ہے اس کے برعکس یونیورسٹی کے افسران بالا کی شہہ خرچیاں بھاری بھر کم گاڑیوں کی روانی بجلی کی مد میں لاکھوں روپے ادائیگی پیٹرول وغیرہ کے بھاری رقوم کا ضیاع اور انتظامیہ کے آفسران کے TA/DA وغیرہ کا اجزا کے علاوہ پرائیوٹ ملازمین کی بھر مار جس میں سوئپرز ،مالی سیکورٹی گارڈز سے لے کر متعدد غیر ضروری لیکچرارز، پروفسرز جوکہ HEC کی پابندی اور گورنر ہاس کے نوٹسز کے باوجود کئی سالوں سے عارضی طور پر بھاری تنخواہیں وصول کررہے ہیں اس رقم کا تمام تر پرائیویٹ ملازمین کا زیادہ تر تعلق یونیورسٹی انتظامیہ کے قربیی رشتہ دار ہیں جس میں یونیورسٹی کا ٹھکیدار عبداللہ ابڑو جوکہ جعفر آباد کا ہے جوکہ رجسٹرار کا خاص بندہ ہے لسبیلہ یونیورسٹی کے فنانس ذرائع کے مطابق وہ 20 لاکھ روپے لے کر بھاگ گیا ہے۔ عمران رشید پہلے پروفیسر تھا بعد میں وی سی لسبیلہ یونیورسٹی نے اسے DiV QEcبنایا جس کے خلاف ٹنڈو جام میں کیس FiR ہے اسکے باوجود لسبیلہ یونیورسٹی نے 25 لاکھ یونیورسٹی اور 25 لاکھ HRC سے دلا کر دوبارہ چائینہ کے دورے پر بھیج دیا ہے پسند و ذاتی اثر رسوخ کی بنا پر ان کو یونیورسٹی پر مسلط کرکے صرف اور صرف تنخواہیں دلانا مقصود ہے مالی شدت کے باوجود انتظامیہ پر پرائیویٹ ملازمین جو کہ زیادہ تر قریبی رشتہ دار ہیں ان کو فارغ کرنے سے قاصر ہے اس کے پیش نظر مالی بحران 5 ارب سے تجاویز کرگیا یقینا آگے چل کر معاملہ گھمبیر صورتحال اختیار کرسکتا ہے جس سے ملازمین طلبا اور انتظامیہ کا مستقبل مخدوش نظر آتا ہے۔ علاقائی حلقوں اور ملازمین کا وہ طبقہ جو مراعات کے حصول سے محروم ہیں.عوامی حلقوں نے گورنر بلوچستان و چانسلر لسبیلہ یونیورسٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ لسبیلہ یونیورسٹی کے اندرونی معاملات جس میں انتظامی، معاشی ،مالی، تعیلمی وغیرہ کے معاملات لا قانونیت بدانتظامی سے پاک کرنے کے لیئے اپنا اہم کردار ادا کریں ورنہ ادارہ اضافی خرچہ جات من پسند رشتہ داروں کی اہم اسامیوں پر بھرتیاں اور ملازمین کا وہ طبقہ جو دوہری پوسٹوں پر براجمان ہیں انکے خاتمہ کیلئے ہنگامی بنیادپر کردار ادا کریں۔اور لسبیلہ یونیورسٹی کو کی سابقہ ساکھ بحال کریں۔اور وائس چانسلر جس کی مدت ملازمت پوری ہوچکی اس کی جگہ فرض شناس، ایماندار وائس چانسلر تعینات کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں