مقامی لوگوں کیلئے پاسپورٹ کا نظام ناقابل قبول ہے، چمن میں آل پارٹیز کا دھرنا

چمن (آن لائن)بلوچستان کے دوسرا بڑا سرحدی اور قبائلی شہر چمن میں نو لاکھ سے زائد نفوس آباد ہیں۔ ان کے ذریعہ معاش بارڈر کی تجارت پر منحصر ہیں۔ روزانہ 20 ھزار سے 30 ھزار تک شہری بارڈر پار کرکے آمد و رفت کرتے ہیں۔ حالیہ گورنمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ پاک افغان بارڈر چمن پر پاسپورٹ نظام سے آئندہ آمد و رفت ہوگی جس کی بدولت اہلیان چمن سراپا احتجاج ہیں اور پاسپورٹ نظام کے خلاف ہیں۔ مقامی لوگوں کیلئے پاسپورٹ کا نظام ناقابل قبول ہیں۔ اس ایجنڈے کے تحت چمن کے تمام سیاسی ، سماجی ، تاجر جماعتیں متحد ہیں اور مشترکہ طور پر گزشتہ ھفتے سے ایک احتجاجی دھرنا شروع کیا ہے۔ جب تک گورنمنٹ پاکستان یہ فیصلہ واپس نہیں لیتے احتجاجی دھرنا جاری رہیگا۔ دنیا کے اکثر ممالک کے سرحدی علاقے کے رہائشیوں نے ہمیشہ مقامی دستاویزات کا استعمال کرکے سرحد عبور کرتے ہیں، کیونکہ سرحدوں پر زمینیں اس طرح تقسیم ہوتی ہے کہ کسی گھر کے کمرے ایک ملک میں تو دروازہ دوسرے ملک میں ہوتا ہے۔ مغرب میں اس کی مثال کینیڈا اور امریکہ سمیت متعدد ممالک جبکہ سینٹرل ایشیا اور جنوبی ایشیا میں ڈیورنڈ لائن پر آباد پشتون قبائل ہیں۔ ان پشتونوں کے درمیان انگریزوں نے مذموم مقاصد کیلئے یہ لائن کھینچی تھی۔جیسے دونوں جانب آباد پشتون قبائل پشتونوں کی تقسیم قرار دیتے ہیں۔ ماضی میں اس لائن کے بر خلاف بہت ساری تحریکیں چلی ہیں، جن کو عالمی سطح پر پذیرآئی بھی ملی۔ ان تحریکیوں میں بے شمار انسان زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہ معاملہ اکثر اس وقت سرد خانے میں ہوتا ہے، جب دونوں ممالک میں آباد پشتون اس لائن پرآزادی کے ساتھ آ جاسکتے ہیں۔ تب یہ قبائل دونوں ریاستوں کے وفاد ار ہوتے ہیں۔ تاہم جیسے ہی کوئی ریاست آنے جانے میں رکاوٹ بنتا ہے، پھر صورتحال مختلف ہوجاتی ہے۔اس وقت دونوں جانب آباد پشتون قبائل کو آنے جانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے طالبان جو ہمیشہ پاکستان کے حامی رہے ہیں وہ بھی اس کی مخالفت میں سخت موقف کے ساتھ میدان میں آچکے ہیں۔ کیونکہ حکومت پاکستان نے سرحد پر آباد پشتونوں کے مطالبہ کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔ کہ یکم نومبر سے چمن کے راستہ افغانستان آنے جانے کے لئے ویزہ حاصل کرینگے۔چمن سمیت تمام پشتونوں قبائل ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی ،عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، مسلم لیگ، پیپلز پارٹی سمیت سیاسی جماعتوں کے رہنما، تاجر تنظیموں، قبائلی عمائدین اور سول سوسائٹی کے ارکان ن، کارکنوں اور حامیوں نے گزشتہ روز حکومت کے اس حالیہ فیصلے کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا۔اور یہ دھرنا اس وقت تک جاری رکھنے کا اعلان سامنے آیا ہے جب تک موجودہ طریقہ کار کے تحت عوام کو افغان قومی شناختی دستاویز تذکرہ اور پاکستانی شناختی کارڈ پر آر پار آنے جانے کا سابقہ فیصلہ برقرار نہیں ہوتا۔ حکومت کے اس فیصلے سے جہاں سرحد کے اسپار ہزاروں لوگوں کے روزگار پر منفی اثر پڑے گا وہاں اس اقدام سے مہنگائی اور معاشی مسائل سے دوچار اس پار موجود چالیس ہزار سے افراد جو ہزاروں خاندانوں کے نان شبینہ کے ذمہ دار ہیں وہ بے روزگار ہو جائینگے۔یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اور قبائل ایک پیج پر ہیں۔اور کسی صورت ممکن نہیں کہ یہ سرحدی گزرگاہوں کے لیے ایسی پابندیاں قبول کریں ، جس سے ہزاروں خاندانوں روزگار سے محروم ہوں۔اس سے پہلے کہ یہ صورتحال ناقابل حل ہو حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کو اس مسئلہ کا حل زمینی حقائق اور معروض کے مطابق تلاش کرنے کا ٹاسک دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں