افغانستان میں سفیر کی تعیناتی خوش آئند فیصلہ ہے، خطے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، سینیٹر عبدالقادر

کوئٹہ (آن لائن) چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پیٹرولیم و رسورسز اور سیاسی و اقتصادی امور کے ماہر سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں بہت جلد اپنا سفیر تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے چین کے بعد پاکستان دوسرا ملک ہوگا جس کا سفیر افغانستان میں تعینات کیا جائے گا حکومت کا جناب عبید الرحمان نظامانی کو افغانستان میں سفیر تعینات کرنے کا فیصلہ انتہائی خوش آئند ہے عبید الرحمان نظامانی نہایت تجربہ کار سفارت کار ہیں افغانستان تعیناتی سے قبل وہ واشنگٹن، نئی دہلی، ڈھاکہ، برلن اور جدہ میں مختلف سفارتی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمدعبدالقادر نے کہا کہ عبید الرحمان نظامانی نہایت تجربہ کار سفارت کار ہیں اور علاقائی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں نظامانی افغان طالبان کے دور حکومت میں پاکستان کی سفارتی سطح پر نمائندگی کرنے والے پہلے سفیر ہونگے پاکستان سے قبل چین افغانستان میں اپنا سفیر تعینات کر چکا ہے پاکستان اور چین کا اپنے اپنے سفیروں کو افغانستان تعینات کرنا خطے پر بہت اہم اثرات مرتب کرے گاچین نے افغانستان میں آئل اور گیس کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔انہوں نے کہا کہ چین افغانستان میںآئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کے علاوہ معدنیات کے شعبے میں بھی گہری دلچسپی رکھتا ہے چین افغان طالبان کو سیاسی، سفارتی اور معاشی بندھنوں میں شامل کرتے ہوئے علاقائی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرے گا افغان طالبان چین کے بعد پاکستان کے ساتھ بھی سفارت اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہوئے آ گے بڑھے گا افغانستان میں پاکستان کے سفیر کی تعیناتی انتہائی اہمیت کی حامل ہے افغان طالبان چین اور پاکستان کی اس سفارتی پیش قدمی کو کبھی نظر انداز نہیں کر سکیں گے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ چین اور پاکستان کے افغانستان میں سفیر تعینات کرنے سے علاقے میں امن و امان کے قیام کے حوالے سے بڑی بہتری پیدا ہو گی پاکستان میں امن لوٹ آئے گا اور سی پیک منصوبے زیادہ تیز رفتاری سے پیداواری اہداف حاصل کرنے لگیں گے گزشتہ دنوں چینی صدر شی جن پنگ نے چینی ماہرین اور ٹیکنیشنز کی سیکیورٹی فول پروف بنانے کے حوالے سے پاکستان پر زور دیا تھا ان کا سیکیورٹی کے حوالے سے کنسرن جائز اور قابل فہم ہے افغانستان میں سرمایہ کاری اور سفیر کی تعیناتی کی وجہ سے چین اپنا رسوخ استعمال کرے گا جس کے نتیجے میں سفارتی، سیاسی،اقتصادی سطحات پر بھی نمایاں بہتری آئے گی اور خطہ امن کا گہوارہ بھی بننے لگے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں