غزہ میں جنگ بندی، اسرائیل کو 14.3 ارب ڈالر کا پیکج نہ دیا جائے امریکی سینیٹرز کا مطالبہ
واشنگٹن(صباح نیوز)4 امریکی سینیٹرز نے اپنے مشترکہ بیان میں حماس کے خلاف اسرائیلی اقدامات کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر روکنے کی اپیل کی ہے۔سینیٹرز نے امریکی اور اسرائیلی حکام کو ارسال کیے گئے خط میں لکھا کہ ہم غزہ میں شہریوں، امدادی کارکنوں اور انسانی امداد کی ترسیل کے لیے قلیل مدتی جنگ بندی کے صدر جو بائیڈن کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس سینیٹرز نے ایک اہم قانون کا حوالہ دیا، یہ قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث سیکیورٹی فورسز کی امداد پر پابندی لگاتا ہے، اراکین نے جوبائیڈن انتظامیہ کی اسرائیل کے لیے ہنگامی فوجی امداد کے پروگرام کو چیلنج کیا۔ سینیٹرز نے امریکی اور اسرائیلی حکام کو ارسال کیے گئے خط میں لکھا کہ ہم غزہ میں شہریوں، امدادی کارکنوں اور انسانی امداد کی ترسیل کے لیے قلیل مدتی جنگ بندی کے صدر جو بائیڈن کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔اپنے خط میں ان سینیٹرز نے ضروری سخت نگرانی کے تحت شہریوں کو ضروری انسانی امداد کی کامیاب فراہمی اورغزہ میں تمام قیدیوں کی رہائی پر توجہ دےنے پر زور دیا ہے۔ سینیٹرز نے خطے میں دہائیوں سے جاری تنازعات کو کم کرنے کے لیے طویل مدتی حکمت عملی کے بارے میں علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اسرائیلی اور فلسطینی قیادت کے درمیان وسیع تر بات چیت پر زور دیا ہے۔اس کے علاوہ ڈیموکریٹک پارٹی کے پروگریسو ونگ کے اراکین نے انتظامیہ کو خبردار کیا کہ اسرائیل کے لیے 14.3 ارب ڈالر کا پیکج لیہی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ غزہ پر اسرائیل کے انتقامی حملے نے شہریوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔یہ قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب سیکیورٹی فورسز کو امریکی امداد کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ترقی پسند رکن کانگریس آندرے کارسن نے دی گارجین کو ایک ای میل میں کہا کہ مجھے بہت تشویش ہے کہ ہمارے ٹیکس دہندگان کے ڈالر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔انہوں نے اسرائیل پر جنگی جرائم کا الزام لگایا، انہوں نے رواں ہفتے میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں ہونے والی مہلک بمباری اور اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی جانب سے سفید فاسفورس کے مبینہ استعمال کا حوالہ دیا۔سی این این نے بروز ہفتہ رپورٹ کیا کہ صدر جو بائیڈن اور ان کے سینئر معاونین نے غزہ میں انسانی بحران اور شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کو خبردار کر دیا ہے۔جو بائیڈن اور ان کی ٹیم کو خدشہ ہے کہ غزہ میں ہونے والے مصائب و مشکلات کے خلاف عالمی سطح پر اٹھنی والی آوازیں جلد ہی مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں جس سے اسرائیل کو جنگ بندی کے لیے مزید بڑھتے دبا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔امریکی میڈیا نے نوٹ کیا کہ بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کے لیے واضح ریڈ لائنز طے کرنے سے گریز کیا لیکن انسانی ہمدردی کی تکالیف کو کم کرنے اور شہریوں کی اموات کو کم کرنے کے لیے اقدامات پر زور دیا ہے۔جب کہ اسرائیلی فضائی حملے جاری ہیں، بائیڈن اور ان کے معاونین انسانی صورت حال سے پریشان ہیں اور اسرائیل پر دبا ڈال رہے ہیں کہ وہ بحران کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے۔


