فنانس بل کی منظوری:حکومت کے اپوزیشن سے خفیہ رابطے،تعاون مانگ لیا
اسلام آباد: وفاقی بجٹ 2020-21 کی منظوری قومی اسمبلی میں (پیر کو) حاصل کی جائے گی تاہم حکومت کو بجٹ منظور کرانے کے لئے مشکلات کا سامنا ہے اور فنانس بل 2020 کو پاس کرانے کے لئے اپوزیشن سے خفیہ مذاکرات بھی جاری ہیں اس کی بڑی وجہ تحریک انصاف میں اختلافات ہیں کیونکہ اس سے 50 سے زائد اراکین بجٹ اجلاس کے موقع پر غیر حاضر تھے۔ذرائع کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر،وزیر دفاع پرویز خٹک اور چیف وہپ محمد ڈوگر نے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نوید قمر،خواجہ آصف،رانا ثناء اللہ،شازیہ مری،اسد محمود اور دیگر سے رابطے کئے ہیں اور ان سے درخواست کی ہے کہ اپوزیشن بجٹ منظوری میں رکاوٹ نہ ڈالے بلکہ بجٹ کو منظور کرانے میں حکومت کے ساتھ تعاون کیا جائے کیونکہ فنانس بل کی منظوری کے دوران واک آؤٹ پر جانے کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے یا اپوزیشن اپنی جماعتوں کے اراکین کو بولے وہ آج ہونے والے اجلاس میں نہ آئیں۔ذرائع نے بتایا کہ بجٹ منظوری کے لئے حکومت کو ویسے تو ایوان میں موجود اراکین کی سادہ اکثریت درکار ہے لیکن چونکہ تحریک انصاف کے اراکین کی بڑی تعداد پارٹی قیادت سے نارا ض ہے اور فنڈز نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنے تحفظات کا اظہار بھی کرچکے ہیں اور حکومت کو شک ہے کہ وہ بجٹ اراکین کے دوران بعض اراکین غیر حاضر رہ سکتے ہیں اور ایسی صورت میں اگر اپوزیشن اراکین کی تعداد زیادہ ہوگئی تو حکومت کو بجٹ پیش کرانے میں پیش آئیں گی اور فنانس بل پیش نہ ہوا تو حکومت کی ناکامی اور وزیر اعظم پر عدم اعتماد کے مترادف ہوگا اس لئے تحریک انصاف کے رہنما اور چیف وہپ جہاں اپنے اراکین سے رابطے میں ہیں اور بجٹ منظوری کے دوران ایوان میں رہنے کیلئے درخواست کررہے ہیں وہی پر اپوزیشن سے خفیہ رابطے اور ملاقاتیں جاری ہیں اور ان سے بجٹ منظوری کیلئے تعاون مانگا گیا ہے۔


