پاک افغان سرحد پر آمدو رفت کیلئے پاسپورٹ اور ویزہ سسٹم کیخلاف بچوں کی کفن پوش احتجاجی ریلی
کوئٹہ (آن لائن)چمن میں پاک افغان سرحد پر آمدروفت کے لیے پاسپورٹ اور ویزا لازمی قرار دینے کے خلاف بچوں نے احتجاجی ریلی نکالی اور ڈپٹی کمشنر دفتر کے سامنے دھرنا دیا۔احتجاج میں ہزاروں بچوں شریک تھے جن میں سے بعض نے کفن بھی پہن رکھے تھے۔شرکاءنے بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر پاسپورٹ کی شرط نامنظور کے نعرے درج تھے۔افغانستان سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع چمن میں مقامی قبائل، تاجر و مزدور تنظیمیں اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے 21 اکتوبر سے جاری دھرنے کو 28 روز مکمل ہوگئے ہیں۔ دھرنا کمیٹی نے 20 نومبر سے پاک افغان سرحد ی شاہراہ کو ہر قسم کی آمدروفت کے لیے بند کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں معطل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔دھرنے سے دھرنا کمیٹی کے قائدین کے علاوہ بچوں نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ حکومت پاسپورٹ اور ویزے کی شرط واپس لے کر سرحد پر دونوں جانب آباد مقامی آبادی کو پہلے کی طرح آمدروفت میں آسانیاں فراہم کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے سخت شرائط کی وجہ سے لوگوں کا روزگار اور کاروبار متاثر ہوا ہے جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیم اور صحت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔دھرنے کی قیادت کرنےوالے غوث اللہ اچکزئی کا کہنا تھا کہ پاک افغان چمن سرحد پر دونوں جانب کے سرحدی علاقوں کے لوگ صرف شناختی کارڈ یا افغان شناختی دستاویز تذکرہ دکھا کر آزادانہ طور پر آتے جاتے تھےاب ستر سالوں میں پہلی بار پاسپورٹ اور ویزے کی شرط عائد کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کی وجہ سے ہزاروں افرادکا نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں جو روزگار کے لیے روزانہ اس سرحدی گزر گاہ کو عبور کرکے افغانستان اور پاکستان آتے جاتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ سرحد کے دونوں جانب آباد ہم ایک ہی زبان، نسل اور قوم آباد ہیں ہماری آپس میں رشتہ داریاں ہیں ہمارا قبرستان، مسجد تک ایک ہیں۔ حکومت کے فیصلوں کی وجہ سے رشتوں میں داڑیں پڑرہی ہیں۔دھرنے کے قائدین کی پانچ رکنی مذاکراتی کمیٹی بھی اسلام آباد پہنچی ہے جہاں وہ پارلیمنٹرینز اور حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کررہی ہےتاہم اب تک مذاکرات میں کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔


