نگران حکومت اپنے اختیارات سے تجاوز اور پشتون دشمنی پر مبنی اقدامات کررہی ہے، پشتونخوا میپ

لورالائی (پ ر) پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ آئین کی بالادستی کو تسلیم اور اس پر عملدر آمد ہو، اس آئین میں ہر ادارے کے دائرہ کار ودائرہ اختیار کا تعین کیا گیا ہے ،ملکی آئین میں پارلیمنٹ خودمختار ہے لیکن آج پارلیمنٹ کی بے توقیری جاری ہے ، صاف شفاف غیر جانبدارانہ انتخابات ناگزیر ہے ، ملک کو قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی فیڈریشن کے تحت ہی چلایا جاسکتا ہے اور قوموں کو ان کے سرزمین پر قدرت کے دیئے گئے وسائل پر مالک تسلیم کرتے ہوئے اختیارات دینے ہونگے۔ پشتون افغان قوم آج تاریخ کے بدترین حالات سے دوچار ہیں ، کچھ نا سمجھ سیاسی لوگوں کی وجہ سے پشتون قوم حق حکمرانی سے محروم ہے ، ملک کے قیام کے بعد خان شہید نے آئین بنانے اور ون مین ون ووٹ کا مطالبہ کیا ،افغان کڈوال اور ساتھ ہی ملک میں پشتونوں کے ساتھ جاری امتیازی سلوک ناقابل برداشت اور قابل مذمت ہے ، نگران حکومت اپنے اختیارات سے تجاوز اور پشتون دشمنی پر مبنی اقدامات کررہی ہے۔ افغان کڈوال کے حوالے سے پاکستان اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے UNHCRکےساتھ بیٹھ کر فیصلہ طے کریں ۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات طالیعمند خان ، مرکزی سیکرٹریز جبار خان اتمانخیل ، صلاح الدین خان اچکزئی ، حاجی عبدالحق ابدال ، صوبائی اطلاعات سیکرٹری نصیر ننگیال ، صوبائی ایگزیکٹوز حاجی دارا خان جوگیزئی ،سردار حبیب الرحمن دومڑ، رزاق خان ترین ، دوست محمد لونی ، ضلع سیکرٹری صفدر خان میختروال سمیت دیگر مقررین نے پارٹی چیئرمین محترم محمود خان اچکزئی کے دورہ لورالائی کے موقع پر مختلف اولسی جرگوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مقررین نے کہا کہ پارٹی نے عوامی رابطہ مہم 24 اکتوبر کو ضلع ہرنائی سے شروع کیا جو محترم مشر محمود خان اچکزئی کے سربراہی میں جاری ہے اور اسی سلسلے میں ہم نے عوامی رابطہ مہم ایک ایسے وقت، صورت حال میں جاری رکھا ہے کہ پشتون افغان قوم کو تاریخ کے بدترین دور کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ایسے مشکلات میں دھکیلا گیا ہے کہ پشتون کے وسائل پر قبضہ ہے اور مزید قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں، ہماری قوم کے بڑی تعداد میں نوجوان مسافری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، یہ مشکلات اللہ کی طرف سے نہیں ہے بلکہ ہمارے سیاسی غلطیوں اور کچھ نہ سمجھ سیاسی لوگوں کی ہے جس کا نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں جس کے باعث ہم پشتون خطے میں ایک سخت ترین دور سے گزر رہے ہیں ، ہمارے لوگ ملک اوراس ملک سے باہر وہ مزدوری کر رہے ہیں جو دنیا جہان کی قومیں کر چکی ہیں اور اب دنیا جہان کے آزاد قومیں اس مشکل سے گزر چکے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اس سخت ترین مزدوری، مشکل زندگی کے باوجود یہاں ہمارے سر و مال کی حفاظت نہیں ہے اس طرح کی صورت حال میں کبھی ایک بہانے سے کبھی دوسرے بہانے اور اب افغان کڈوال کے نام سے ہمیں محنت مزدوری ، کاروبار، تجارت سے دور رکھتے ہوئے ہم پر روزگار کے دروازے بندکیئے جارہے ہیں اور ہمارے عوام کی سر و مال کی کوئی حفاظت نہیں ہے ۔ مقررین نے کہا کہ ہم اس ملک کے رہنے والے لوگ ہیں اس ملک کے آئین میں لکھا ہے کہ ہر پاکستانی پاکستان کی ہر کونے میں گھر بسا سکتا ہے تعلیم ، تجارت کرسکتا ہے ان کے آنے جانے پر پابندی نہیں آزادی ہے ہم نے کسی پر یہ راستے بند نہیں کیے ہیں لیکن ہمارے قوم پر یہ راستے مکمل طور پر بند ہیں آج بھی آپ پنجاب جا کر دیکھیں وہاں پر سلیمان خیل رہتے اور کام کرتے ہے لیکن ان کے بچوں کو شناختی کارڈ نام پر جن کی عمر ابھی تک پوری نہیںشناختی کارڈ کیلئے یعنی 18سے کم عمر نوجوانوں کو بھی ہر چوراہے پر تنگ کیا جاتاہے ، پولیس تھانے لیجا کران کی تضحیک وتذلیل کی جاتی ہے ۔ اسی طرح ہماری تجارت پر پابندی لگائی گئی ہے ،چمن ڈیورنڈ لائن پر صدیوں سے جاری آمدورفت وتجارت پر قدغنیں لگا کر وہاں کے مقامی عوام کیلئے پاسپورٹ کا ناروا شرط رکھ دیا گیا ہے ہم سب کو یہ بتانا چاہتے ہیںکہ ہمارے لوگ دونوں اطرافپرآباد ہیں آدھا گھر خط کے اس پار اور آدھا گھر خط کے اُس پار ہے گھر ایک طرف اور قبرستان دوسری طرف ہے یہ لائن انگریزوں نے کھینچی تھی جس کو آج 130 سال مکمل ہوچکے ہیں ۔ 130 سال میں ہمیں کوئی مشکل پیش نہیں ہوئے تھی ،ہمارے آنے جانے، تجارت پر کوئی پابندی نہیں تھی آج یہ صورتحال بنائی گئی ہے کہ تجارت اور ہمیں زندگی گزارنے نہیں دیا جارہا ۔ رات کو حکم آتا ہے کہ لوگ ملک سے باہر نکل جائے وہ لوگ جو 40 سال سے یہاں زندگی بسر کر رہے ہیں کسی نے اپنا گھر / مکان بنایا ہے، کوئی کرایہ کے مکان میں رہے رہا ہے انہوں نے اپنی زندگی کے چالیس سالہ محنت کے بعد یہ سب حاصل کیا لیکن انہیں آج زور زبردستی بیدخل کیا جارہا ہے ۔ مقررین نے کہا کہ جو سیاسی غلطیاں ہوئی ہیں جس غلطیوں کی ہم نے وقت پر نشاندہی بھی آج انہیں آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں ۔ ہم پشتون پاکستان میں 1954 میں خان شہید گرفتار ہوا، رہائی کے بعد خان شہید نے ورور پشتون پارٹی بنائی ورور پشتون پارٹی کا منشور تھا کہ پاکستان میں تقسیم پشتون وطن کو ایک صوبے میں منظم کرنا یعنی اس کی ملی وحدت حاصل کرنا دوسری بڑی بات یہ کہ ہم پشتون ہے ہمیں پشتونستان کے نام سے صوبہ دیا جائے ،پشتون خطے میں موجود ہر معدنیات کا مالک پشتون ہے ،دنیا جہان میں اقوام متحدہ کی منشور کے مطابق پشتونستان ہمارا حق ہے اور ہمارے مذہب اسلام اور پشتو بھی ہمیں یہ حکم دیتا ہے کہ ہم اپنے قومی حکمرانی کا حق رکھتے ہیں لیکن اس حکمرانی کے حق سے ہم پشتون کچھ نا سمجھ سیاسی لوگوں کی وجہ سے آج تک محروم ہیں۔ مقررین نے کہا کہ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے یہ 1954 میں ہماری مادری زبان پشتو کو سکول، مدرسہ، تجارت، دفتر ی کی زبان قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ آج بھی اس ملک میں پشتو جو کہ ہماری مادری زبان ہے کو علمی ، عدالتی ، دفتری ، کاروباری زبان کا درجہ نہیں دیا جارہا ۔ مقررین نے کہا کہ پی ڈی ایم کی اتحادی کی حیثیت سے ہم نے 26نکاتی اعلامیہ پر عملدرآمد کیلئے پہلے دن سے زور دیا کہ ان 26نکاتوں پر فور ی طور پر عملدرآمد کیا جائے اور اس کیلئے نہ صرف اس پشتون بلوچ صوبے کے ہر تحصیل، ضلع ، ڈویژن بلکہ ملک کے ہر صوبائی دارالخلافہ میں عظیم الشان احتجاجی جلسے کیئے گئے اور عوام نے ہمارا ساتھ دیا ۔ لیکن بدقسمتی سے پی ڈی ایم ان 26نکات پر عملدرآمد کرنے میںناکام رہی۔ آج آئینی ، سیاسی ، معاشی اور معاشرتی بحرانوں سے ملک دوچار ہیں اور عالمی طور پر یک وتنہا ہے۔ ملک میں آئین کی بالادستی کو تسلیم نہیں کیا جارہا کیونکہ یہ آئین ملک میں موجود قوموں کو برابری کی بنیاد پر زندگی بسر کرنے کا حق دیتا ہے، پشتونخواملی عوامی پارٹی نے ہر آمر اورآمرانہ اقتدار کے دور میں ملک میں آئین کی بالادستی ، جمہور کی حکمرانی کیلئے آواز بلند کی اور جمہوری تحریکوں میں صف اول کا کردار ادا کرتے ہوئے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی اور پارٹی کے دیگر کارکن شہید ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ خان شہید جس نے اپنی زندگی کا نصف حصہ فرنگی اور ملکی آمرانہ قوتوں کی قید وبند میں گزارالیکن کبھی بھی اپنے اصولی موقف سے دستبردار نہیں ہوئے ۔ پشتونخواملی عوامی پارٹی نے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی شروع کردہ جدوجہد سے لیکر آج تک اپنے محبوب قائد محترم محمود خان اچکزئی کی قیادت میں پشتون قوم کے حقوق پر کسی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی سودا کیا ہے بلکہ پشتونوں کے اتحاد واتفاق کی بات کرنے پر انہیں یکجا کرنے پر پارٹی کو مسلسل سزائیں دی گئی ۔ آج بھی ہم یہاں آپ کے پاس اپنی قوم کے پاس اس لیئے آئیں ہیں کہ آپ ہم سے اپنی عقل شریک کرےں اور اگر ہم غلط ہے تو ہمیں بتائیں اور اگر ہم صحیح ہے ہماری قومی ، سیاسی، جمہوری جدوجہد درست ہے ہمارا پروگرام عوامی ہے تو پھر آپ ہمارا بھرپور ساتھ دیںتاکہ ہم محترم مشر محمودخان اچکزئی کی قیادت میں متحد ومنظم ہوکر اپنی قوم کو درپیش حالات سے نجات دلاسکے اور اس ملک میں سیال وبرابر قوم کی حیثیت سے اپنی زندگی بسر کرسکےں جہاں ہمارے تجارت ، علم ، کاروبار ، روزگار پرکسی قسم کا کوئی قدغن نہ ہو اور ہمارے سرومال کو تحفظ حاصل ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں