کسی پر اگر کیس ہے تو اسے عدالتوں میں لائیں، یہ طریقہ ٹھیک نہیں کہ لوگوں کو لاپتا کردیا جائے، محمود اچکزئی
کوئٹہ (آن لائن) پشتونخوا وطن اور برصغیر پاک وہند کے آزادی کے عظیم سالار خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کی شہادت کی 50ویں برسی کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں عظیم الشان جلسہ عام میں اُن کے سیاسی ، قومی ،صحافتی ، ادبی اور علمی خدمات پر انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا گیا اس عظیم الشان اجتماع کی صدارت ملی مشر اور پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کی محمود خان اچکزئی نے پشتونخواملی عوامی پارٹی ضلع کوئٹہ ، جنوبی پشتونخوا کے پارٹی کے سیاسی کارکنوں اور کوئٹہ کے غیور شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت پر اُن کا شکریہ اداکیا محمود خان اچکزئی نے میڈیا کے پرسنز اور مختلف اخباروں کے نمائندوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آج خان شہید کے دن کی مناسبت سے بعض اخبارات نے اُن کے صرف ایک دو مضامین چھاپے ہیں جن اخبارات نے خان شہید کے دن کی مناسبت سے خصوصی ایڈیشنز شائع کئے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور جن اخبارات نے خان شہید کے دن کی مناسبت سے مضامین نہیں چھاپے ان کے اس رویہ پر ہم سوچیں گے کہ آئندہ میں پارٹی کا ان کے ساتھ کیا رویہ ہوگاانہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ 75سال میں پاکستان کو چلانے والوں نے پاکستان کو ایک پاکستانی قومیت نہیں دی ، اس ملک کو نو، دس سال تک صر ف اس لئے بے آئین رکھا گیا کہ بالخصوص پنجاب کی جوڈیشری اور انتظامیہ سیاسی لوگ حتیٰ کہ افواج کی غلط سوچ نے آئین بننے نہیں دیا کہ پنجاب کی آبادی کو کیسے کنٹرول کیا جائے، پھر جس انداز میں مدتوں کے بنے ہوئے صوبے ہمارے ایک بہت بڑے پشتون سیاستدان کو معمولی مراعات کے بدلے میں سارے صوبے ضم کرکے ون یونٹ کی تشکیل اور پیرٹی کی بنیاد پر بنگال کے 54فیصد آبادی اور ہماری 46فیصد آباد کی برابری کا اعلان کیا گیا خان شہید نے 1956ءمیں اپنے بیان میں کہا تھا کہ اپنی قوم کو دوسروں کی بڑی آبادی سے بچانا یا ان کے مفادات کا خیال کرنا کہ اپنی قوم کو دوسروں کی بڑی آبادی سے بچانا یا ان کے مفادات کا خیال کرنا کیا یہ عیاشی صرف بنگال اور پنجاب کےلئے ہونی چاہےے تھی؟ یا ہم غریب قومیتوں کیلئے بھی کچھ رکھنا یا کرنا ہوگا پاکستان تاریخ کی بدترین بحرانوں میں گرچکاہے اور ملک کو ان بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس ملک میں انصاف کا بول بالا کرنا ہوگا جس میں آئین کی بالادستی قائم کرنی ہوگی وار ملک کی منتخب پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوگا اور ملک کی داخلہ وخارجہ پالیسیوں کی تشکیل عوام کے منتخب پارلیمنٹ سے ہوگا۔ محمو خان اچکزئی نے سیاسی اتحاد PDMکے حوالے سے کہا کہ بڑی مشکل سے اتحاد کی تشکیل ہوئی تھی جس پر پاکستان کے جمہوری سرکردہ پارٹیوں کے سربراہوں نے دستخط کئے تھے وہ پتہ نہیں کیوں عمران خان کی دشمنی میں اس حد تک چلی گئی کہ اس کا ایک لیڈر کہتا ہے کہ میں 30سال سے سٹیبلشمنٹ کی آنکھ کا تارا ہوں یہ شرم کی بات ہے ایک ایسا آدمی جس نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اعلامیے پر دستخط کیئے ہیں اور اس کا تیسرا اور چوتھا نقطہ یہ ہے کہ جس طرح دنیا کے افواج سیاست سے دور رکھی گئی ہیں ہماری افواج بھی سیاست سے دور رہیں گی ۔ میں کیا کہوں اس پر بعد میں بات کرینگے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی نے اور کوئی کمال نہیں کیا ہے جب میاں محمد نواز شریف ایک غلط راستے پر تھے اور انہوں نے اسلامی جمہوری اتحاد جس میں ہماری بلوچستان اور پشتونخوا وطن کے بڑے بڑے اکابرین سارے شامل تھے ہم پارلیمنٹ میں نہیں تھے ، بینظیر کی حکومت کے خلاف انہوں نے آئی جی آئی بنائی ،اس وقت پشتونخوا میپ واحد پارٹی تھی جس نے نواز شریف اور آئی جی آئی کے اکابرین جس میں پشتون بلوچ سندھی بھی تھے ہم نے میاں نواز شریف کاسیاہ جھنڈوں سے استقبال کیا تھا۔ ہماری نواز شریف کی ذات اور آئی جی آئی سے دشمنی نہیں تھی ہمیں جمہوریت اور ملک میں جمہوری نظام عزیز تھا اور آئی جی آئی اتحاد ملک ڈبونے کا عمل تھا ، اور اس ملک کے بڑے رقبے پر پشتون زندگی گزار رہا ہے ،یہاں ہمارے مساجد اورقبرستان ہیں‘ ہم نے کبھی بھی غلط سیاسی روش نہیں اپنایا ہے، ہم نے اس فوج کو پاکستان کا فوج کہا جو پنجاب کے 4ضلعوں کی فوج ہے ہم نے کبھی ایسی بات نہیں کی ہمیں انگریزوں کے وقت سے لیکر پھر پاکستان میں ہمارے اکابرین کو صرف اس لئے جیلوں میں رکھا کہ انہوں نے پاکستان کے چار اضلاع کی فوج کو پاکستان کا فوج کہا ہے ۔ ہم انگریزی دور حکومت ہو یا پاکستان کی حکومت میں ہمارے اکابرین نے سینکڑوں سال قید وبند کی صعوبتیں برداشت کی( پشتون اپنے آبائی وطن پر پر افتخار زندگی گزار رہا ہے ) ۔ پاکستان میں ہمارے اکابرین کو صرف اس لیئے جیلوں میں رکھا کہ انہوں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ون مین ون ووٹ کی بنیاد پر منتخب پارلیمنٹ ہو ، یہاں پر ایف سی آر کا قانون تھا ، کوئی مائی کا لعل بول نہیں سکتا تھا پاکستان کسی کے خواب وخیال میں بھی نہیں تھا ، 1929میں عبدالصمد خان اچکزئی جو اپنے آپ کو ایک بیوہ کا یتیم بچہ کہتا تھا انہوں نے کسی یونیورسٹی سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی ۔ وہ بڑے دینی عالموں کی سربراہی میں اپنے گھر میں پلا اور پڑھا تھا ، انہوں نے نہ کبھی کسی سیاسی پارٹی کو دیکھا تھا نہ کسی لیڈر سے ملاقات کی تھی وہ اپنی سرنوشت میں لکھتے ہیں کہ جب گھر کی ذمہ داریوں سے نکلا یہاں پھر اور لکھتا ہے کہ میں نے پشتونوں کی جو بربادی دیکھی مشکلات دیکھے میں ذاتی طور پر اس نتیجے پر پہنچا کہ پشتونوں کی یا بلوچوں کی یا ہمارے ہندوستان کے عوام کی بربادی کی اصل وجہ خارجی حکمران ہے اور لکھتا ہے کہ میں نے اپنے ساتھ دو وعدے کیئے تھے کہ ایک انگریزی سرکار کی ملازمت نہیں کرنی اور دوئم اپنے سیاسی مقاصد حصول کیلئے کام کرونگا ۔ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کے سیاسی مقاصد میں انٹی سامراج ، انٹی فیوڈل اور جمہوریت پسندی جس پر ہمیں جیلوں میں ڈالا گیا ، جمہوریت ، ون مین ون ووٹ اور عوام کی منتخب پارلیمنٹ کی بات کی تھی اس وقت خان شہید کو عمر قید کی سزا سنائی تھی جسے خان شہید نے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمیں خان شہید کے بیٹوں اور تمام خاندان کو سی آئی ڈی کی معرفت سے انہیں خط لکھنا ہوتا تھا اور اسی طرح اسے بھی سی آئی ڈی کی معرفت خط بھجوانا ہوتا تھا اور ہمیں جمہوریت کیلئے یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑا اس لیئے ہمیں جمہوریت عزیز ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں آئین کی بالادستی ، پارلیمنٹ کی خودمختاری ، جمہور کی حکمرانی پر کسی سے سمجھوتہ نہیں کرینگے، ہم ان لوگوں سے کہتے ہیں جو یہ کہتے ہیں ہمیں پاکستان عزیز اور یقیناً عزیز ہوگا تو انہیں الیکشن سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز کی کانفرنس بُلائی جائے جس میں ملک کے سیاسی ، عدلیہ ، انتظامیہ ، فوج ، میڈیا ، تاجروں کے نمائندوں اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے نمائندے شامل ہو ہیں کم از کم تین روزہ کانفرنس ہو جس میں ملک کے مسائل پر بحث اور ملک چلانے کے طریقہ طے کرکے الیکشن پر جانا ہوگا۔ اور الیکشن کی شفافیت کو گارنٹڈ بنانا ہوگا جو کہا اورسنا جارہا ہے اس سے الیکشن کی شفافیت مشکوک ہوجاتی ہے۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں نواز شریف ، بلاول ، مولانا فضل الرحمن اور تمام سیاسی پارٹیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ خدا کیلئے اس ملک کو بچائیں اس کا واحد راستہ اور علاج یہاں ایک آئینی حکمرانی ہے پاکستان بحران میں گر چکا ہے ، ہم پاگل نہیں ہیں کہ خدانخواستہ یہ کہہ دیں کہ جرنیلوں کو پھانسی ہو لیکن تمام پارٹیوں سے جس میں جمعیت علماءاسلام جو میری سب سے نزدیکی پارٹی ہے انہوں نے عوام کے ساتھ یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ جن ججوں نے پہلے مارشلاءسے لیکر آخری مارشل لاءتک صرف آئین کے تحفظ کی خاطر اپنی نوکریوں کو ٹھوکر ماری یا ان کو نوکریوں سے نکالا گیا پارٹی وعدہ کریں کہ جب بھی پارلیمنٹ بنی یہ مشترکہ قرار داد پیش کریگی کہ جو جج پہلے ،دوسرے ، تیسرے اور چوتھے مارشلاءمیں نکالے گئے ہیں ان کو ہیروز آف ڈیموکریسی ،آئین کے ہیروز ڈکلیئر کیئے جائیں ان کے بچوں کو وہ تمام مراعات دی جائیں جو ان سے چھینی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن ججوں نے جرنیلوں کا مارشلاﺅں میں ساتھ دیا تھا اُن کا میں تو زیادہ نہیں کہہ سکتا کم سے سکم ان کو نوکریوں سے فارغ کردیا جائے ، ان کے تصاویرہائیکورٹ ، سپریم کورٹ سے ہٹا دیئے جائیں۔ جس طرح جنوبی افریقہ میں اپارتھائیڈ کے وقت لوگ بیٹھے مفاہمت کی کہ ماضی کو بھول جاﺅ ، اسی طرح آئیں پاکستان کو جمہوری انداز میں چلائیں ، ہمیں کسی سے کوئی خیرات نہیں چاہیے ، ہمیں افواج پاکستان میں اپنی آبادی کے مطابق حصہ چاہیے ، افواج پاکستان کی تمام اداروں میں سندھیوں ، بلوچوں ، پشتونوں کو آبادی کی بنیاد پر حصہ دیا جائے تاکہ فوج پاکستانی فوج بنے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسویں صدی میں پنجاب کے نام سے صوبہ ہے ، بلوچ کے نام سے ہے جس میں ہمارا بھی کچھ حصہ پھنسا ہوا ہے ، سندھی کا صوبہ ہے ، پشتونوں کا نہیں ہے ۔ انگریز کے ساتھ ہم لڑے تھے ، ہم نے مقابلہ کیا تھا ، بندوق سے بھی کیا تھا اور زندہ با مردہ باد سے بھی کیا تھا ٹھیک ہے انہوں نے ہمیں تقسیم رکھا ، موجودہ پاکستان کیوں 75سال سے ہمیں تقسیم رکھ رہی ہے جب یونٹ بن رہا تھا میانوالی اور اٹک بنوں کا حصہ تھے کیا میانوالی کے نمک کے ذخیروں پر آپکی نظر ہے ایسا نہیںہوگا ۔ جو پشتون وطن ڈیورنڈ خط کے اس طرف ہے اور دوسری طرف افغانستان ہے یہاں کے ایک ساتھ متصل پشتون وطن چترال سے لیکر بولان تک اس کو ہم خان شہید کی افکار کے مطابق پشتونستان کے نام سے لینا چاہتے ہیں اور یہ ہمارا حق ہے ہم اسے لیکر رہینگے۔ یہاں تعلیم آپ نے دینی ہے ، مفت تعلیم کم سے کم بنیادی تعلیم مادری زبانوں میں ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ میں افغانستان اور پاکستان دونوں سے درخواست کرتا ہوں کہ سنٹرل ایشیاءکے سستے انرجی کے ذخائر پر تمام دنیا کی نظریں ہیں اور ان کا سب سے نزدیک ترین راستہ گوادر ہے ، گوادر سے سنٹرل ایشیاءتمام دنیا کی بندرگاہوں سے بہت نزدیک ہے یہ افغانستان اور پاکستان کے حکمرانوں کے عمل کا امتحان ہے اگر ہم نے غلطی کی جس کے آثار دکھائی دے رہیں ہیںتو خدانخواستہ افغانستان پاکستان اور یہ سارا خطہ ان مست سانڈوں کی ٹکراﺅ کا مرکز بن جائیگا۔ میں افغانستان کے علماءکرام ، سیاسی ، معاشی ور عسکری ماہرین سے کہتا ہوں کہ وہ خطے کی اس پیچیدہ صورتحال میں لویہ جرگہ کا انعقاد کریں ۔ اور اس طرح پاکستان میں بھی تمام سٹیک ہولڈرز کا اجلاس جس میں تمام معاملات افہام وتفہیم سے خطے کے مسائل کے حل کیلئے سوچا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئی ایم ایف کو تجویز دے سکتے ہیں ، پشتونخوا وطن کے لوگوں کو تمام پارٹیوں کو یہ متفقہ اعلان کرنا چاہیے کہ پاکستان نے جو قرضے لیئے ہیں آئی ایم ایف سے اس کا کچھ حصہ اگر ہمارے خطوں میں صرف ہوا ہے اس کے علاوہ ہم ایک روپیہ بھی نہیں دینگے۔ پیسے آپ ہڑپ کرینگے اور قرضے ہم دینگے۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ پشتون اپنی تاریخ کے مشکل دور میں ہے ، بہت بُرا وقت ہے پشتونوں کیلئے بہت بڑے تماشے بنے ہیں یہ باتیں جذبات سے نہیں ہوش سے کرنے ہونگے کہ یہ ڈیورنڈ خط ایسا اور ویسا ہے ۔ یہ باتیں احتیاط کے ساتھ کرنی ہونگی ۔ ہم نہ کسی سے خیرات چاہتے ہیں اور نہ ہی زکوة ۔ ایک ڈیورنڈ خط ہے جس کی لکیر واضح ہے میرے ماننے سے یہ نہیں مانا جائیگا اور نہ آپ کے ماننے سے یہ ختم ہوگی ۔ لیکن ڈیورنڈ لائن پر گھروں کے سامنے تین ہزار کلو میٹر تار لگایا گیا ہے اب ہمیں راستہ دینا ہوگا اس تار کے اُس پار ہماری ہزاروں ایکڑ زمین ہے ، زمینداری ہے ، قبرستان ہے وہاں یہ کیسے جاسکتے ہیں ؟ اس لیئے چمن کا پرلت بیٹھا ہوا ہے ۔ ہم یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ پاکستان کی فوج کو پیسوں کی ضرورت ہے اس کا یہ علاج نہیں کہ وزیرستان میں سونا دریافت ہو یا کوئی بھی قدرتی ذخائر دریافت ہوں آپ اس پر قبضہ جماﺅ یہ غلط ہے ہمارے ساتھ بیٹھیں ہم اس ملک کے رہنے والے ہیں پشتونخواوطن کی سرزمین کی ایک ایک فٹ تقسیم ہے یہاں بغیر مالک کی زمین نہیں ہے ہر کسی کی زمین میں جو بھی ذخیرہ پیدا ہوا ہو اس قبیلے کے لوگوں کے ساتھ مل بیٹھ کر تقسیم کریں ہم مسافری اور غربت کی زندگی سے نکل سکیں گے اور آپ اسلحے خرید لوگے یہ نہیں ہوسکتا کہ سرزمین ہماری ہوگی اور اختیار آپکا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دو برادر اسلامی ممالک ہیں ان کے درمیان بدی کی کوئی گنجائش نہیں ، افغان باشندے یہاں اور پاکستانی وہاں ایک دوسرے کے ساتھ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں ہم ایک دوسرے کے ملکوں میں رہے پھرے ہیں ہمارا نفع نقصان شریک ہے ۔ محمو د خان اچکزئی نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے درخواست کرتے ہیں کہ افغانستان کے موجودہ حکمرانوں اور افغانستان کے متصل تمام ہمسایہ ممالک کی ایک کانفرنس بلائی جائے جس میں افغانستان سے ہمسایوں کے خدشات اور افغانستان کے اپنے ہمسایوں سے خدشات پر سیر حاصل گفتگو ہو اور نتیجے میں ایک ایسا معاہدہ تشکیل پائے کہ سارے ممالک ایک دوسرے کی استقلال اور آزادی کے احترام اوراندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے پابند ہوں ، اس معاہدے کی ضامن اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے تمام رکن ممالک ہوںیہ واحد راستہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرلت اس عوام کی بنیاد ی انسانی حق ہے ،مولانا صاحب اور چند اکابرین سے ہم نے بات کی ہے آج ایک بات یہ آئی کہ مولانا صاحب اور آرمی چیف کی ملاقات ہوئی ہے میں نہیں جانتا کیا بات چیت ہوئی ہے لیکن اس وقت تک جب مولانا صاحب سراج الحق اور دیگر سیاسی لوگوں کے ساتھ ہماری ملاقات ہوگی ان کے ساتھ بات ہوگی تب کوئی فیصلہ کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بڑی باتیں نہیں کرسکتے لیکن کسی اور نے چمن پرلت کی حمایت کرنی تھی یا نہیں پشتونخواملی عوامی پارٹی ہر حال میں کریگی ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بیش میں جو منڈیاں بنی ہوئی ہیں یہ ساری چمن کے لوگوں کی زمینوں پر بنائی گئی ہیں وہاں لوگ کاروبار کیلئے جاتے ہیں شام کو واپس اپنے گھروں میں آتے ہیں اس پر پاسپورٹ کسی صورت نہیں مانتے ، لائن پہلے بھی تھی لوگ آتے جاتے رہتے تھے اور ابھی جو تار لگائی گئی ہے اس پر ہمیں مجبور نہ کیا جائے۔ ہماری افغانستان کے ساتھ آٹھ جگہوں پر راستے ہیں ان آٹھ جگہوںپر جو ٹیکس پاکستان کسٹم اور دیگر ادارے کراچی میںلیتے ہیں وہی تورخم ، انگور اڈہ ، بل مل بنوں ، خوست ، قمر الدین اور ہر جگہ پر دینے کو تیار ہیں ایک بار تلاشی لی جائے پھر ہر روز ہر جگہ پشتون کاروباریوں کو تنگ نہ کیا جائے ۔ آج بھی ملک کے تمام شہروں میں صرف پشتونوں کے کاروبار پر چھاے مارے جارہے ہیں ۔ کراچی لاہور میں پشتونوں کے کاروباروں پر چھاپے نامنظور ہیں ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ بنوں جرگہ کے فیصلے ہماری قوم کیلئے ہماری کانگرنس ہے ۔ پاکستان کا آئین کہتا ہے کہ ہر شہری کو ملک کے کسی بھی کونے میں کاروبار اور ہائش کا حق حاصل ہے ۔ بنوں جرگے کے فیصلے ہمارے قوم کے قومی اسمبلی کی طرح ہے ۔ پشتونوں کے پانیوں ، تور غر ، چارسرے اور دیگر تمام مسائل کیلئے ہماری بات نہ مانی گئی تو اپنی جرگوں سمیت عالمی عدالتوں میں جائینگے کہ ہماری زمین یہاں قبرستان وہاں ہے اب ہمیں نہیں چھوڑا جارہا اور پشتونوں پر دہشتگردی کے الزامات لگائے جارہے ہیں ۔ پشتون دہشتگرد نہیں پشتون وطن دوست ہیں ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہرجگہ انسانی حقوق کی باتیں ہورہی ہیں شرم کرنی چاہیے عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے وہ میرا دوست تھا پھر غلط راستے پر چلا، عمران خان کے ساتھ اختلافات اپنی جگہ پاکستان کے تمام ادارے مضبوط ادارے ہیں جب عمران خان کو وزیر اعظم بنایا جارہا تھا تو کیا آپ لوگوں کو پتہ نہیں تھا ۔ ہم پاکستان کے حکمرانوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ جس پربھی کوئی کیس ہے انہیں گرفتار کرکے عدالتوں کے سامنے لائیں یہ طریقہ ٹھیک نہیں کہ گھروں میں داخل ہوکر کسی کے بھائیوں ، بہنوں ، بیٹوں کو اُٹھا کر لیجاﺅ یہ قابل قبول نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات سننے میں آئی ہے کہ کوئٹہ کو 6زونز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس پر فوج گھر گھر کی تلاشی لے گی پتہ نہیں انہیں کیا چائیے۔ اگر بندوق، کارتوس، پستول دیکھ رہے ہیں تو آخر کس لئے گھر کے مالک کو چھری پسٹل وغیرہ سے محروم کرکے چوروں ڈاکو¶ں کے رحم و کرم پر چھوڑو گے۔ ڈاکو¶ں جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ تو بندوق ہونگے لیکن شریف شہریوں کو اپنی حفاظت خود کرنے سے محروم کردوگے۔


