وکلا کو دو سال تک ووٹ کا حق نہ دینے کی ترمیم اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج
اسلام آباد:پاکستان بار کونسل کی لائسنس ملنے کے بعد وکلا کو دو سال تک ووٹ کا حق نہ دینے کی ترمیم اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دی گئی۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر کیس کی سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔ عدالت عالیہ نے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو بھی آئندہ سماعت کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے۔ اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کی جانب سے وکیل شعیب شاہین اور عمیر بلوچ نے ترمیمی بل چیلنج کیا،پاکستان بار کونسل ترمیمی بل کے خلاف حکم امتناع کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کر دیا گیا۔ درخواست میں کہا گیا کہ پاکستان لیگل پریکٹیشنر اینڈ بار کونسل رولز 1976 میں ترمیم کی گئی پاکستان بار کونسل رولزکی سیکشن "175 کے”میں ترمیم سے نوجوان وکلا متاثر ہوئے ہیں پاکستان بار کونسل نے ترمیم کے ذریعے نوجوان وکلا کو 2سال تک ووٹ کے حق سے محروم کردیا ترمیم غیر قانونی ہے،لائسنس یافتہ وکلا کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں رکھا جا سکتا وکلاء کو اپنے لیڈر چننے کا اختیار نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ یہ امتیازی سلوک ہے عدالت پاکستان بار کونسل کی ترمیم کالعدم قرار دے۔#/s#


