ویڈیو اسکینڈل والا معطل جج برطرف
اداریہ
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو گزشتہ روز انتظامی کمیٹی نے مس کنڈکٹ کا جرم ثابت ہونے پر ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ا س شرمناک کیس کی تفصیلات مسلم لیگ نون کی اعلیٰ قیادت (مریم نواز، شہباز شریف اور دیگر)نے ایک پریس کانفرنس میں بیان کی تھیں اور پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا تھا کہ محمد نوازشریف کو فوری طور پر رہا کیا جائے کیونکہ جس جج نے سزا سنائی تھی وہ خود قبول کر رہا ہے کہ اس نے یہ فیصلہ کسی دباؤ کے تحت کیا تھااور یہ کہ وہ اس غلطی پر ملزم محمد نواز سے معافی کا طلب گار ہے۔آج جیسے ہی مذکورہ جج کے بارے میں 7رکنی انتظامی کمیٹی کی جانب سے یہ اطلاع میڈیا پر آئی کہ اسے برطرف کر دیا گیا ہے شریف فیملی ایک بار پھر حسب عادت اپنا یہ دعویٰ دہرانے میں مصروف ہو گئی ہے کہ محمد نواز شریف کو سزا سنانے والے جج(ارشد ملک)کی ملازمت سے برطرفی کے فیصلے کی بناء پر بے گناہ ثابت ہو گئے ہیں۔ماہرین قانون نے شریف فیملی کے اس بریت والے دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ فاضل وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ محمد نواز شریف کے خلاف دائر کردہ مقدمے سے متعلق مقدمے میں پائی جانے والی کسی موہومہ یا متوقع بد دیانتی ثابت ہونے پر نہیں سنایا گیا۔یہ جج ارشد ملک کے خلاف ان کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی سے متعلق ہے جو انہوں نے سزا یافتہ ملزم(مجرم) کی رہائش گاہ پر جاکر کی۔شریف فیملی کے خلاف قائم شدہ مقدمات سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ملزم محمد نواز شریف کے چھوٹے بھائی (قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف) شہباز شریف نے مس کنڈکٹ میں جج کی برطرفی کا فیصلہ سن کرکہا کہ وہ خدا کے حضور سربسجود ہیں کہ اس نے ان کے بڑے بھائی (محمد نواز شریف) کی بیگناہی ثابت کردی۔جس ملک میں قائد حزب اختلاف کی علمی استعداد اس قدر کمزور ہو کہ انہیں یہ بھی معلوم نہ ہو کہ مذکورہ جج کی مس کنڈکٹ میں برطرفی سے محمد نواز شریف کی بیگناہی ثابت نہیں ہوتی وہاں کے عوام کو دیر تک اپنی بدقسمتی کا سامنا کرنا ہوگا۔
ماہرین قانون کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ نواز شریف فیصلے کے خلاف بریت کی اپیل کر چکے ہیں اسی طرح نیب بھی سزا میں اضافے کی اپیل کے ساتھ عدالت میں موجود ہے۔ابھی شرمناک ویڈیو اسکینڈل کا مقدمہ سست روی کا شکار ہے اہم ملزمان لندن میں بیٹھے ہیں اس مقدمے کا فیصلہ سامنے آنے پر کئی چہرے بے نقاب ہونے کی توقع ہے۔
فی الحال ویڈیو اسکینڈل نے خود عدلیہ کے وقار کے حوالے سے ایک سے زائد سوالات اٹھا دیئے ہیں۔پہلا سوال یہ ہے کہ ایک جج کو یہ ہمت کیسے ہوئی کہ جرائم پیشہ افراد کی دعوتوں میں نہ صرف شرکت کرے بلکہ وہ کردار کی اس پستی پر چلا جائے جس کا دفاع وہ خود بھی نہ کر سکے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ فیصلہ قانونی شواہد کی بنیاد پر سنایا جا نا چاہیے یا جج کی سوجھ بوجھ (چاہے وہ کتنی ہی ماورائے قانون کیوں نہ ہو؟)پر چھوڑا جا سکتا ہے۔تیسرا سوال یہ ہے کہ جو فیصلے اعلیٰ عدالتوں میں مسترد کر دیئے جاتے ہیں ان فیصلوں کے حوالے سے سزا سنانے والے متعلقہ ججز سے کوئی باز پرس کی جاتی؟چوتھا سوال یہ ہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ سے بری کئے جانے والے متعدد ملزمان فیصلہ سنائے جانے سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے، انہیں برسوں جیل میں قید رکھنے والے ججز کو کس نام سے پکارا جائے؟رسوائے زمانہ ویڈیو اسکینڈل کے ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جانا چاہیئے کہ مذکورہ جج کو احتساب عدالت کا جج لگوانے میں اہم کرداروں کو قانون کے کٹہرے کب لایا جائے گا؟ اور ججز کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے نظام کو ان خامیوں سے فوری طور پر پاک کیا جائے جو جرائم کے خاتمہ کی بجائے جرائم کے فروغ میں مددگار ہیں۔کیا یہ عمل کرپشن کی تعریف سے باہر ہے کہ آج تک اس پر کسی جانب سے کوئی بات نہیں کی گئی۔ویڈیو اسکینڈل دراصل عدلیہ میں موجود کالی بھیڑوں میں سے ایک کالی بھیڑ کی نشاندہی ہے دیگر کالی بھیڑوں کا سراغ لگانے کی ضرورت ہے۔
عام آدمی کی دیرینہ خواہش ہے کہ اسے انصاف فراہم کیا جائے۔مگر عام آدمی عدلیہ کا نام سنتے ہی اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتا ہے بلکہ دعا مانگتا ہے کہ:
”اللہ کسی کو اسپتال، تھانے یا عدالت نہ لے جائے“۔
یہ دعائیہ جملہ ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی ناانصافیوں کی ترجمانی کے لئے کافی ہے۔اس جملے میں پائے جانے والے کرب اور اذیت کا اندازہ ہر شریف النفس شہری لگا سکتا ہے۔حالانکہ چرچل کا ایک جملہ ہماری عدلیہ کے ہر فرد کو یاد ہے کہ ان سے(چرچل سے) جرمنی کی جانب سے لندن پر فضائیہ حملوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ ملک کا مستقبل کیا ہوگا تو انہوں کوئی جواب دینے سے پہلے سوال کنندہ سے دریافت کیا:”کیا ہماری عدالتیں لوگوں کو انصاف فراہم کر رہی ہیں؟“ جواب ملا:”ہاں“، یہ سن کر چرچل بولے: ”پھر ہمارے مستقبل کو کوئی خطرہ نہیں“۔اس جملے میں یہ پیغام موجود ہے کہ جس ملک کی عدلیہ میں ارشد ملک جیسے ججز موجود ہوں اس ملک کی سا لمیت اور مستقبل ہر لمحے خطرے میں ہے۔75 سال کسی ادارے کی نشوونما اور استحکام کے لئے بہت ہونے چاہیئیں۔ان اداروں میں عدلیہ کو بھی شامل سمجھا جائے بلکہ اسے سرفہرست رکھا جائے۔جج ارشد ملک کے اعتراف جرم کے بعد اس کی برطرفی میں اتنی تاخیر نہیں ہونی چاہیئے تھی۔ اعتراف جرم کے بعد مزید ثبوت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے۔ جیسا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کو دھمکی دینے والے ملزم کے حوالے سے مقدمے کی سماعت میں کوئی تاخیر نہیں کی جارہی۔ممکنہ حد تک تیز رفتار سماعت ہو رہی ہے۔بد عنوانی میں ملوث ہر ملزم کو آغا افتخارالدین سمجھا جائے تاکہ عام آدمی عدالت کا نام سن کر اپنے کانوں کو ہاتھ نہ لگائے۔


