اورماڑہ شہر کو پانی کی فراہمی معطل، وجوہات آئل کی عدم دستیابی ظاہر
اورماڑہ (یو این اے) شہر کو پانی کی فراہمی معطل، وجوہات آئل کی عدم دستیابی ظاہر، بی این پی اورماڑہ کے رہنما ندیم بخت جمال وفد کی صورت میں محکمہ کے دفتر پہنچ گئے کئی دنوں سے شہر کو پانی کی فراہمی معطل، پانی کی عدم فراہمی کی وجہ آئل کی عدم دستیابی ظاہر۔ پانی کی مصنوعی بندش سے عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ بی این پی اورماڑہ کے سینیئر رہنما ندیم بخت جمال وفد کی صورت میں فوری محکمہ پبلک ہیلتھ کے دفتر پہنچ گئے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ کئی دنوں سے اورماڑہ شہر میں پانی کی فراہمی معطل کر دی گئی ہے۔ پانی کی عدم فراہمی کے سبب عوام کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے۔ پانی کی مصنوعی بندش کے باعث عوامی حلقوں میں شدید منتشری پھیل گئی ہے۔ اسی سلسلے میں بلوچستان نیشنل پارٹی اورماڑہ کے سینیئر رہنما ندیم بخت جمال وفد کی صورت میں محکمہ پبلک ہیلتھ کے دفتر پہنچ گئے۔ ندیم بخت جمال کی سربراہی میں وفد نے شہر میں پانی کی مصنوعی بندش کے متعلق محکمہ کے اورسینئر عبدالقیوم سے ملاقات کی۔ ملاقات میں اورسیئر عبدالقیوم نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئل کی عدم دستیابی کے سبب بسول مین اسٹیشن میں انجن بند پڑے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئل کی عدم دستیابی سے شہر کو پانی کی فراہمی تعطل کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ محکمہ کی جانب سے ہر مہینے محض 96 لیٹر آئل مہیا کی جاتی ہے جو مہینے بھر میں انجن چلانے کے لیئے ناکافی ہوتے ہیں۔ اس دوران بی این پی اورماڑہ کے سینیئر رہنما ندیم بخت جمال نے سابق ایم پی اے گوادر و بی این پی کے مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر میر حمل کلمتی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ سابقہ ممبر صوبائی اسمبلی و بی این پی کے مرکزی رہنما میر حمل کلمتی نے محکمہ کے اعلی حکام سے بات چیت کرنے اور اس مسئلے کو جلد حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ دریں اثنا ندیم بخت جمال نے محکمہ کے افسر کو شہر میں پانی کی عدم سپلائی کے مسئلے کو حل کرانے کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزید دو دنوں میں پانی کی فراہی کو بحال نہ کیا گیا تو متاثرہ عوام بھرپور احتجاج کا راستہ اختیار کرے گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ پانی کی عدم فراہمی کے سبب عوام کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا مزید کہا تھا کہ پانی کی مصنوعی بندش سے منتشری کا شکار عوام سڑکوں پر نکل آنے کے لیئے تیار بیٹھی ہے۔ تاہم اس دوران عبدالواحد بلوچ، نصر اللہ، مسلم بلوچ اور بھوتانی پینل سے موسی بلوچ بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔


