وفاق نے ہمیشہ بلوچستان کو نظر انداز کیا، عمران خان اہمیت دیتے تو آج ان کیساتھ جیل میں ہوتے، یار محمد رند
کوہلو(آن لائن) سابق صوبائی وزیر سردار یار محمد رند کوہلو میں مرحوم وڈیرہ میر ہزار مری کے فاتحہ خوانی کے لئے پہنچ گئے جہاں انہوں نے ان کے فرزند وڈیرہ وزیر خان مری اور پوتا وڈیرہ بیورغ مری سے تعزیت کی۔اس موقع پر مری قبیلے کے سربراہ نواب جنگیز مری ان کے صاحبزادہ نوابزادہ بژیر مری سمیت علاقائی معتبرین اور عمائدین کی بڑی تعداد موجود تھی۔سردار یار محمد رند نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں آزاد حیثیت سے حصہ لے رہا ہوں،پی ٹی آئی اور عمران خان کا اس وقت ساتھی تھا جب وہ لاڈلہ نہیں تھے۔بلوچستان کے معاملات میں عمران خان کی عدم دلچسپی اور غلط پالیسیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ صرف وزارتوں سے استعفی دیا ہے بلکہ پارٹی سے بھی علیحدگی اختیار کی تھی۔سردار یار محمد رند نے کہا کہ عمران خان اگر بلوچستان کے لوگوں کو اہمیت دیتے تو آج ہم بھی ان کے ساتھ جیلوں میں ہوتے ہیں۔ریٹرنگ آفیسرز کی جانب سے ملک بھرکے قد آور سیاسی شخصیات کے کاغذات نامزدگیوں کو بڑی تعداد میں مسترد کرنے کے حوالے سے سردار یار محمد رند نے کہا کہ انتخابات میں سب کو یکساں موقع ملنا چاہیے اگر پسند و ناپسند کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کو الیکشن میں حصہ لینے یا الیکشن سے دور رکھنے کی کوشش کی جائے تو الیکشن کے نتائج متنازعہ ہو جائیں گے،عوامی نمائندوں کے انتخاب کا موقع صرف اور صرف عوام کو دینا چاہیے انہوں نے کہا کہ وفاق نے ہمیشہ بلوچستان کو نظر انداز کیا ہے۔صوبے کے تمام اضلاع میں کیڈٹ کالج قائم کرنا چاہ رہا تھا راتوں رات تمام منصوبوں کو پی ایس ڈی پی سے نکال دیا گیا تھا جس کے بعد جام کمال کے کابینہ کا حصہ رہنا گوارا نہیں سمجھا۔انہوں نے کہا بلوچستان اور بالخصوص لاپتہ افراد کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔اپنے دور اقتدار میں ہمیشہ عوام کی خدمت کی ہے میرے اوپر کرپشن کا ایک روپے کا بھی الزام نہیں ہے۔نواب جنگیز مری نے بھی میڈیا سے مختصرا گفتگو میں کہا کہ خواہش ہے کہ تمام لوگ مل بیٹھ کر صوبے کے مسائل کو حل کریں، باہمی اتفاق کے فروغ اور علاقے کی تعمیر و ترقی کا خواہاں ہوں۔وڈیرہ بیورغ مری کی جانب سے مہمانوں کے اعزاز میں پر تکلف ظہرانہ بھی دیا گیا۔ عمائدین میں چیف آف مری خیر محمد رہزن ، حاجی میر بہار خان مری ، میر اسماعیل مری ، میر قیوم مری ، وڈیرہ ربنواز ژنگ ، میر باز محمد مری ،ڈاکٹر صاحب خان مری ، وڈیرہ بالو خان مری ، وڈیرہ شہباز خان سومرانی ، وڈیرہ ریحان مری ، میر فیض محمد مری ، ڈاکٹر یعقوب مری ، حاجی احمد نواز ژنگ ، عمر فاروق زرکون ، ملک اکبر خان اوریازئی ودیگر عمائدین موجود تھے۔


