ایوان میں بیٹھے نمائندے اسلام آباد میں بلوچ خواتین کا مسئلہ حل کریں، ثمینہ ممتاز زہری

کوئٹہ، اسلام آباد (آن لائن) ہمارے معاشرے میں خاص کر بلوچستان میں خواتین کو بہت زیادہ عزت دی جاتی ہے اور بلوچستان سے آئی ہوئی ہماری بچیاں اور مائیں جو باہر سرد موسم میں بیٹھی ہوئی ہیںانہیں دیکھ کر افسوس ہوتا ہے اور انتہائی دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ جس طرح وہ دھرنا دیئے بیٹھی ہوئی ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے سینیٹ اجلاس میں اپنی تقریر میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور عورت کی عزت سب کے لئے اہم ہوتی ہے اور جو خواتین اپنے حقوق کے لئے دھرنا دیئے بیٹھی ہیں وہ ہم سب کے لئے قابل احترام بھی ہیں لیکن اگر مسنگ پرسنز کا مسئلہ ہے تو وہ اس علاقے کے ایم پی اے ، ایم این اے اور سرداروں کے پاس کیوں نہیں جاتے جن علاقوں سے لوگ غائب ہو رہے ہیں۔ بلوچستان کے قبائلی سسٹم میں جرگہ اور سرداری نظام ہوتا ہے اوروہ اس طرح سڑکوں پر بیٹھی ہوئی خواتین اس نظام کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ یہ مسئلہ پہلے تواُن نمائندوں اور سرداروں کو حل کرنا چاہئے جنہوں نے ان علاقوں سے ووٹ لئے اور ایوانوں میں برجماں ہیں ۔اسلام آباد میں آ کر دھرنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے اپنی سینیٹ تقریر میں کہا کہ کیا مسنگ پرسنز کا مسئلہ آج کا نہیں بلکہ پرانا مسئلہ ہے پھر کیوں الیکشن کے قریب آتے ہی یہ مسئلہ کھڑا کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جب اس ملک میں کوئی اچھا یا بڑا کام ہونے جارہا ہوتا ہے تو اس طرح کے مسائل سامنے آتے ہیں اور انہیں نچلی سطح پر حل کرنے کی بجائے اسلام آباد کا رخ کرودیا جاتا ہے ایسا کیوں ہے ۔پہلے بھی دھرنوں کی سیاست نے ملک کو بے حد نقصان پہنچایا ہے اور اب انتخابات کی تاریخ قریب آتے ہی یہ دھرنا شروع ہو گیا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ہر علاقے کا ایم این این ، ایم پی اے اور سردار نواب اس مسئلے کو سنتے اور صحیح طرح سے حل کرنے کی کوشش کرتے لیکن افسوس کہ اس نازک مسئلے کو صحیح طریقے سے نہیں دیکھا گیا اور نہ سمجھا گیا۔ ان علاقوں کے نمائندوں نے کبھی وہاں کے عوام کو سمجھا ہی نہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔ بے روزگار نوجوان کیا چاہتا ہے ۔؟ وہ روزگار ہی چاہتا اور اچھی تعلیم چاہتا ہے لیکن جب یہ نمائندے اپنے لوگوں کو نوکریاں بھی نہیں دے سکتے تو وہ بے چارہ پیٹ پالنے کے لئے کچھ تو کرے گا۔ جب وہ اپنے حق کی بات کرتا ہے تو اس کی سنی نہیں جاتی تو وہ نوجوان دلبرداشتہ ہو جاتا ہے۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بتائیں کہ کسی بھی طرح تعلیم حاصل کر لینے کے باوجود بھی نوجوان کو اپنے گھر کو چلانے کے لئے روزگار نہ ملے تو کس کے پاس جائے ۔ کیا روزگار مہیا کرنا اس علاقے کے منتخب نمائندوں کا کام نہیں ۔! ایک اور پوائنٹ پر بات کرتے ہوئے سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا کہ ملک میں خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور عزت کے نام پر قتل و غارت کا سلسلہ بھی بہت پرانا ہے کیوں اس پر کوئی بات نہیں کی جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر انتخابات کے قریب آتے ہی اس طرح کے حالات پیدا کر دیئے جاتے ہیں ۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی سیاسی ایجنڈا ہو اور اس کے ذریعے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جارہی ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں