پڑھائی کے معیار پر پورا نہیں اُترتے،انتظامیہ ایف سی کالج،ڈاکٹر پرویز ہود بھائے نے استعفیٰ دے دیا

ممتاز دانشور اور ماہر تعلیم ڈاکٹر پرویز ہود بھائے آٹھ سال لاہور کے ایف سی کالج میں پڑھانے کے بعد یکایک کیوں سبکدوش ہو گئے؟ ڈی ڈبلیو کا ڈاکٹر ہود بھائے کے ساتھ خصوصی انٹرویو۔

پاکستان میں تعلیم، سائنس اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم پروفیسر ڈاکٹر پرویز ہودبھائے نے لاہور کے فورمین کرسچن کالج سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وہ آٹھ سال تک وہاں فزکس، ریاضی اور سماجیات پڑھاتے رہے۔ اس کے علاوہ وہ چار دہائیوں سے زائد عرصے سے وہ اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی سے بھی وابستہ ہیں۔

جمعہ تین جولائی کو اپنے استعفے میں ڈاکٹر پرویز ہودبھائے نے لکھا کہ انہوں نے ایف سی کالج کی انتظامیہ کے خراب رویے سے تنگ آکر ادارہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے قبل کالج انتظامیہ نے ان کی اہلیت پر سوال اٹھائے تھے اور کہا تھا کہ وہ ایف سی کالج میں پڑھائی کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔

ڈاکٹر پرویز ہودبھائے کے حمایتیوں کے مطابق انہیں ان کی بے باک تنقید اور نظریات کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہے۔حقیقت جاننے کے لیے ڈی ڈبلیو کے نامہ نگار شاہ زیب جیلانی نے ڈاکٹر ہودبھائے سے بات کی، جس کا خلاصہ یہاں پیش خدمت ہے۔

ڈاکٹر پرویز ہودبھائے: دیکھیں، ہر تعلیمی ادارے میں چھوٹی موٹی سیاست تو ہوتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے رہتے ہیں۔ یہ غلاظت ہمارے ہر ادارے میں ہے۔ میرے خیال میں میں اسی کا شکار ہوا۔

لیکن یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ میرے نزدیک اصل بات یہ ہے کہ پاکستان میں کورونا کے بعد ایک بہت بڑی تبدیلی آرہی ہے۔ وائرس کے بعد یونیورسٹیاں بند ہیں اور پڑھائی آن لائن ہو رہی ہے۔ میں بہت پہلے سے اس کے حق میں رہا ہوں۔ لیکن میں نے شروع میں ہی کالج انتظامیہ سے کہا تھا کہ ہمیں تعلیم کا معیار بہتر کرنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہییے۔

ہمیں یہ دیکھنا چاہییے کہ آن لائن کلاسوں کے نام پر اساتذہ پڑھا کیا رہے ہیں۔ اس کے لیے میں نے انتظامیہ کو تجویز دی تھی کہ وہ اساتذہ سے تقاضہ کریں کہ وہ ہر ہفتے اپنا تدریسی مواد یا لیکچر کے نوٹس کالج کے ڈیٹا بیس میں جمع کر دیا کریں تاکہ شفافیت ہو اور سب کو پتہ ہو کہ کون کیا پڑھا رہا ہے۔

ڈاکٹر پرویز ہودبھائے: انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی۔ پھر طلبا کی طرف سے شکایات آنا شروع ہو گئیں۔ مجھے کئی طلبا نے لکھا کہ انہیں جو مواد دیا جا رہا ہے وہ تو ان کے پلے ہی نہیں پڑ رہا۔ میں نے خود اس مواد کو دیکھا تو حیران رہ گیا کہ یہ تو خُرافات ہیں کیونکہ ایک آدھ سینئر پروفیسرز نے تو اپنے پینتیس سال پرانے ہاتھ سے لکھے نوٹس کی تصویریں لے کر طلبا کو بھیج دی تھیں۔

میں نے پھر انتظامیہ سے کہا کہ یہ تو ظلم ہے، بچوں کے ساتھ دھوکہ ہو رہا ہے۔ جب انہوں نے اسے بھی نظرانداز کیا تو پھر میں نے ڈان اخبار میں اپنے ایک کالم میں آن لائن تدریس کے ان چیلنجوں کی نشاندہی کی۔ اس کالم میں کسی شخص یا ادارے کا نام نہیں تھا لیکن اس کے بعد سے ہمارے ڈپارٹمنٹ میں کُھلبلی مچ گئی اور بلآخر مجھے ایف سی کالج سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں