پاکستان نے جوابی حملے کرکے ایران کیلئے ”ریڈ لائن“ متعین کردی، بی بی سی نامہ نگار

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے جوابی حملے سے ایران کے لیے ”ریڈ لائن“ متعین کردی، بی بی سی کی مرکزی نامہ نگار برائے عالمی امور لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی مرکزی نامہ نگار برائے عالمی امور لیز ڈوسیٹ کا تجزیہ شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پاکستان جانتا تھا کہ جب ایران نے اس کی سرزمین کے اندر اہداف پر حملہ کیا تو اسے جوابی کارروائی کرنی پڑے گی۔ ایک ’برادر‘ ہمسایہ کی جانب سے اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی پر حیران ہو کر اس نے فوری طور پر جواب دینے کا فیصلہ کیا اور ثابت کیا کہ وہ حملہ کرنے کے قابل اور تیار ہے۔ ایران کی طرح اس نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ بلوچ علیحدگی پسندوں پر حملہ کرنے میں اس کی کارروائی ’آئندہ ہونے والے حملے‘ کو روکنے کے لیے تھی۔ پاکستان اپنے خطے سے متعلق بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ ا±س کے گرد موجود ہمسایہ م±مالک کے ساتھ ا±س کے تعلقات پہلے ہی سرد مہری کا شکار ہیں۔ اس میں دیرینہ علاقائی حریف انڈیا اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان بھی شامل ہے۔ دونوں ہمسایہ ممالک طویل عرصے سے پاکستان کے ساتھ دشمن قوتوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے الزامات بھی لگاتے رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایران اور دیگر دوست اور غیر دوست ممالک کے ساتھ ’ریڈ لائن‘ قائم کرنے کے بارے میں ہے جو ممکنہ طور پر اسی طرح کی کارروائی پر غور کرسکتے ہیں۔ قومی وقار بھی اس سب کے بیچ موجود ہے۔ یہ غیر معمولی اور غیر متوقع واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ، جس نے طویل عرصے سے پاکستان کی خارجہ اور داخلی پالیسی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، اندرون ملک کافی دباو¿ کا شکار ہے۔ ایک ایسے ملک میں طویل عرصے سے تاخیر کا شکار انتخابات میں صرف چند ہفتے باقی رہ گئے ہیں جو مالی بحران سے بھی دوچار ہے۔ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، سفیروں کو واپس بلایا جا رہا ہے۔ اس نقصان کی تلافی، اس عدم اعتماد کو کم کرنے میں وقت لگے گا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ فریقین سمجھتے ہیں کہ یہ آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں