7 اکتوبر کوحماس کی کارروائی فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف ایک ضروری قدم تھا ،حماس
غزہ(صباح نیوز) اسرائیل کے خلاف بر سر پیکار فلسطینی تحریک مزاحمت حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل کے خلاف حملے کوفلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف ایک ضروری قدم اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کا ایک طریقہ قرار دیا ہے . حماس نے7 اکتوبر میں اسرائیل پر کیے گیے حملوں کے بارے میں 16 صفحات پر مشتمل اپنی پہلی عوامی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف ایک ضروری قدم اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کا ایک طریقہ تھا.”آپریشن اقصی طوفان، دعوی فلسطین کو تحلیل کرنے، فلسطین کی زمین پر قبضہ کرنے اور اسے یہودی ملکیت بنانے، مسجدِ اقصی پر اور دیگر مقدس مقامات پر مکمل حاکمیت قائم کرنے سے متعلق، اسرائیلی منصوبوں کے مقابل اٹھایا گیا ایک ضروری قدم اور قدرتی ردعمل ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "اقصی طوفان، غزہ کی پٹی کو محاصرے سے آزاد کروانے، قبضے سے نجات دِلانے، ملی حقوق کا احیا کرنے، آزادی اور اپنی تقدیر کے فیصلے کا حق حاصل کرنے اور القدس کے دارالحکومت والی فلسطینی حکومت قائم کرنے کے لئے اٹھایا گیا ایک قدرتی قدم ہے۔۔ رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ کچھ نقائص وقوع پذیر ہوئے، جس کی وجہ اسرائیلی سکیورٹی اور فوجی نظام کی جلد ناکامی اور سرحدی علاقوں میں افراتفری تھی۔حماس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس کے جنگجو اسلامی اقدار کے پابند ہیں اور اگر عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا تو یہ حادثاتی طور پر اور قابض افواج کے ساتھ تصادم کے دوران ہوا۔بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی مشکلات پر قانونی طور پر جوابدہ ٹھہرایا جائے اور قبضے کے خاتمے تک دنیا بھر میں عوامی دبا پر زور دیا گیا۔حماس کی رپورٹ کے بعد جاری ہونے والے ایک ویڈیو بیان میں نتن یاہو کا کہنا تھا کہ ہمارے قیدیوں کی رہائی کے بدلے حماس جنگ کے خاتمے، غزہ سے ہماری افواج کے انخلا، فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور اس بات کی ضمانت کا مطالبہ کرتی ہے کہ حماس اقتدار میں رہے گی۔


