امریکی فورسز کی شام اور عراق میں 85 اہداف پر بمباری، پاسداران کے اہم کمانڈر ہلاک

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی فورسز نے جمعے کو عراق اور شام میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاو¿ں کے زیر استعمال درجنوں ٹھکانوں پر طیاروں اور ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ فورسز (سینٹکام) نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا ہے کہ فورسز نے عراق اور شام کے اندر پاسداران انقلاب قدس فورس اور اس کے اتحادی ملیشیا گروپوں کے خلاف فضائی حملے کیے ہیں۔ امریکی فورسز نے پچاسی سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے لیے کئی ایرکرافٹ استعمال ہوئے جن میں دور تک مار کرنے والے جنگی طیاروں نے امریکہ سے بھی اڑان بھری۔ سینٹکام کے مطابق جن جگہوں کو نشانہ بنایا گیا ان میں ملیشیا گروپوں اور ان کے حامی پاسدان انقلاب کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرز، انٹیلیجنس سنٹرز، راکٹس، میزائل، بنا پائلٹ کے اڑنے والے فضائی آلات کے سٹوریجز اور ملیشیا گروپوں کے لیے اسلحے کی فراہمی میں استعمال ہونے والی تنصیبات شامل ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملے اردن میں ایک امریکی فوجی تنصیب ’ٹاور-22‘ پر ایران کے حمایت یافتہ ایک عسکری گروپ کے ڈرون حملے کے جواب میں کیے گئے جس میں تین امریکی فوجی ہلاک اور 40 کے لگ بھگ زخمی ہو گئے تھے۔ صدر جو بائیڈن نے ایک بیان میں واضح کیا ہےکہ آنے والے دنوں میں مزید اور بھی عمل میں آئے گا۔ انہوں نے کہا،”ہمارا جواب آج شروع ہواہے۔ یہ ہمارے منتخب کردہ اوقات اور مقامات پر جاری رہے گا۔”بائیڈن نے انتباہ کرتے ہوئے کہا،”وہ تمام لوگ جو ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، یہ جان لیں: اگر آپ کسی امریکی کو نقصان پہنچاتے ہیں، تو ہم جواب دیں گے۔”دوسری جانب امریکی حملے میں پاسداران انقلاب کے اہم کمانڈر کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں