دہلی کی طرف مارچ کرنے والے سکھ کسانوں کے خلاف پولیس کارروائی، درجنوں زخمی

نئی دہلی(کے پی آئی) اپنے مطالبات کے حق میں دہلی کی طرف مارچ کرنے والے سکھ کسانوں کے خلاف پولیس کارروائی شروع ہوگئی ہے ۔ آنسو گیس ، لاٹھی چارج سے درجنوں کاشتکار زخمی ہوگئے ہیں۔ بھارتی حکومت نے نئی دہلی کی سرحدوں کو سیل کرنے، اضافی فورسز کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ سروسز کومعطل کر دیا ہے ۔پولیس نے نئی دہلی کی طرف جانے والی 3 قریبی ریاستوں سے آنے والی شاہراہوں پر دھاتی اسپائیکس، سیمنٹ اور اسٹیل کی رکاوٹوں سے ناکہ بندی بھی کر دی ہے۔بھارتی ریاست پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کسانوں نے اپنے مطالبات کے حق میں دہلی کی طرف مارچ شروع کر دیا ہے جبکہ دوسری جانب ، کسانوں کو روکنے کے لیے پیرا ملٹری فورسز کے ہزاروں اہلکاروں کو تعےنات کر دیا گےا ہے۔ کسانوں کو نئی دہلی سے دور رکھنے کے لیے ہنگامی طور پر انتظامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ ایک ماہ کے لیے عوامی اجتماع اور شہر میں ٹریکٹر ٹرالی کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ہریانہ کے حکام نے بھی پنجاب کے ساتھ لگنے والے مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی ہے جن میں امبالہ، جند، فتح آباد، کرکشیترا اور سرسا شامل ہیں۔ وہاں بلاکس رکھنے کے علاوہ خاردار تار بھی بچھائے گئے ہیں۔۔این ڈی ٹی وی کے مطابق حکومت کی جانب سے احتجاج پر پابندی لگائی گئی ہے اور شہر کی طرف جانے والے راستوں کو بھی سِیل کیا جا رہا ہے۔کسانوں کے مطالبات میں فصلوں کی زیادہ سے زیادہ امدادی قیمت،فصلوں کی امدادی قیمت کی ضمانت کے لیے قانون کا نفاذ، قرضوں کی معافی اور سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد،کہ بجلی کے بل منسوخ کرنے لکھیم پور کیری، اتر پردیش میں مارے جانے والے کسانوں کے لواحقیق کو معاوضے کی ادائیگی اور جن کسانوں کے خلاف مقدمے درج ہیں، وہ واپس لینے کا مطالبہ شامل ہے ۔ ا س معاملے پر حکومت سے مزاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ گزشتہ روزمذاکرات ختم ہونے کے بعد آدھی رات کے قریب کسان مزدور سنگھرش کمیٹی کے رہنما سارون سنگھ پندھیر نے صحافیوں کو بتایا کہ دو سال قبل حکومت نے تحریری شکل میں کہا تھا کہ وہ ہمارے آدھے مطالبات پورے کرے گی، ہم نے کوشش کی کہ معاملات کو پرامن طور پر نمٹایا جائے تاہم حکومت مخلص دکھائی نہیں دے رہی، وہ صرف وقت پاس کر رہی ہے۔کسان مورچہ اور کسان مزدور مورچہ نے 2020،20 میں بھی دہلی مارچ کا اعلان کیا تھا جس میں شامل ہونے والوں نے انتہائی سخت طرزعمل اپنایا تھا۔کسان مزدور مورچہ میں 250 سے زائد کسانوں کی یونینز شامل ہیں جبکہ کسان سموکت مورچہ 150 کے قریب یونینز کا پلیٹ فارم ہے۔ بھارتی کاشت کاروں نے 2021 میں بھی ایسا ہی احتجاج کیا تھا۔ کاشت کار یوم جمہوریہ کے موقعے پر رکاوٹیں توڑتے ہوئے شہر میں داخل ہو گئے تھے۔انڈیا میں کسانوں کو ان کی بڑی تعداد کی بدولت سیاسی غلبہ حاصل ہے۔ ممکنہ طور پر اپریل میں شروع ہونے والے قومی انتخابات سے پہلے کاشت کاروں کے پھر سے احتجاج کا خطرہ ہے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق انڈیا کی ایک ارب 40 کروڑ کی آبادی میں دو تہائی حصے کی گزربسر زراعت پر ہے۔ زراعت ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریبا پانچواں حصہ ہے۔نومبر 2020 میں زرعی اصلاحات بلوں کے خلاف کسانوں کا احتجاج ایک سال سے زیادہ عرصہ جاری رہا جو 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔اس کے بعد ہزاروں کسانوں نے عارضی کیمپ قائم کیے جن میں احتجاج کے دوران کم از کم سات سو لوگوں کی جان گئی۔احتجاج شروع ہونے کے ایک سال بعد نومبر 2021 میں مودی سرکار نے پارلیمنٹ کے ذریعے تین متنازع قوانین کو منسوخ کروا دیے جن کے بارے میں کسانوں کا دعوی تھا کہ ان سے نجی کمپنیوں کو ملک کے زرعی شعبے کو کنٹرول کرنے کا موقع ملے گا۔دہلی کی طرف مارچ کرنے والے ہزاروں کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ طویل احتجاج کے لئے تیار ہیں۔ کئی ماہ تک کافی ہونے والا راشن اور ڈیزل لے کر وہ دہلی کی سرحد پر پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں سیکوریٹی فورسس کی جابجا کھڑی کردہ رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ انہیں قومی دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے سرحدوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔انوں نے بتایا کہ سوئی سے لے کر ہتھوڑے تک، ہمارے پاس اپنی ٹرالیوں میں ضرورت کی ہر چیز موجود ہے۔ ان میں پتھر توڑنے کے اوزار بھی شامل ہیں۔ ہم چھ ماہ کا راشن اپنے ساتھ لے کر اپنے گاں سے چلے ہیں اور مطالبات کی تکمیل تک دہلی کی سرحد پر ڈیرہ ڈال کر رہیں گے۔مارے پاس کافی ڈیزل بھی موجود ہے۔ یہاں تک کہ ہریانہ کے اپنے بھائیوں کے لئے بھی ہم سامانا لے آئے ہیں۔ پنجاب کے گورداسپور کے ایک کسان ہربھجن سنگھ نے اپنے ٹریکٹر سے جڑی سامان سے لدی دو ٹرالیوں کو کھینچتے ہوئے یہ بات بتائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں