امریکہ کوذہنی طور پر صحت مند صدر کی ضرورت ہے، ورجینیا کے اٹارنی جنرل کا جو بائیڈن کو ہٹانے کا مطالبہ

ورجینیا (صباح نیوز) امریکی ریاست ویسٹ ورجینیا کے اٹارنی جنرل پیٹرک موریسی نے امریکی صدر کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو ذہنی طور پر صحت مند صدر کی ضرورت ہے۔پیٹرک موریسی نے امریکی نائب صدر کمالا ہیرس سے صدر جو بائیڈن کے خلاف 25ویں ترمیم استعمال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ 81 سالہ امریکی صدر ضعیف ہیں، وہ جسمانی اور ذہنی طور پر اپنے فرائض ادا کرنے کے قابل نہیں۔پیٹرک موریسی نے کمالا ہیرس پر زور دیا ہے کہ وہ اسمبلی میں 25ویں ترمیم کے استعمال کا مطالبہ کریں اور صدر جو بائیڈن کو عہدے سے ہٹا دیں۔موریسی کی جانب سے حال ہی میں 388 صفحات پر مشتمل خصوصی کونسل کی رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں صدر جو بائیڈن کے ذہنی طور پر کمزور ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔اس رپورٹ میں صدر بائیڈن کو ایک نیک نیت، کمزور یادداشت والے بزرگ آدمی کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔اٹارنی جنرل موریسی نے اپنی رپورٹ میں اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔نائب صدر ہیرس کو لکھے گئے ایک خط میں موریسی نے کہا ہے کہ امریکی مزید ایسے رہنما کے حامل نہیں ہو سکتے، امریکیوں نے بڑی مشکلات دیکھی ہیں، صدر جوبائیڈن کے خلاف جو حقائق سامنے آئے ہیں ان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس معاملے پر جلد ایکشن لینا پڑے گا۔موریسی نے مزید کہا ہے کہ حال ہی میں متعدد ایسی مثالیں سامنے آئی ہیں کہ صدر جوبائیڈن کمزور دکھائی دیے ہیں، انہوں نے اپنے خط میں مزید ایسی مثالوں کی نشاندہی کی جہاں عوامی مصروفیات اور غیر ملکی رہنماو¿ں کے ساتھ بات چیت کے دوران بائیڈن کی مبینہ علمی کمی واضح نظر آئی ہے۔رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے موریسی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ یہ حالیہ مثالیں ایک ایسے صدر کی واضح تصویر پیش کرتی ہیں جو ملازمت کے لیے تیار نہیں ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ ہمیں ایک ایسے صدر کی ضرورت ہے جو ذہنی طور پر تندرست ہو۔یاد رہے کہ امریکی صدر سابق صدر کینیڈی کے قتل کے بعد صدارتی جانشینی کو واضح کرنے کے لیے 1965 میں کانگریس نے 25ویں ترمیم پاس کی تھی۔اس میں نائب صدر اور کابینہ کو یہ اجازت بھی دی گئی تھی کہ وہ کسی صدر کو جسمانی طور پر نااہل ہونے کی صورت میں عہدے سے ہٹا سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں