روسی اپوزیشن لیڈر ناولنی کی ہلاکت ، دنیا بھر میں مظاہرے ذمہ دار پیوتن ہیں ،بائیڈن

لندن(این این آئی)روس کے صدر دلادیمیر پیوتن کے مخالف اور حزبِ اختلاف کے اہم رہنما الیکسی ناولنی کی آرکٹک جیل کالونی میں پر اسرار موت کے خلاف امریکا، برطانیہ اور یورپ نے شدید تنقید کی ، اس کے علاوہ دنیا بھر میں مظاہرے ہو ئے، ناولنی کی موت پرواشنگٹن ڈی سی میں روسی سفارتخانے کے باہر مظاہرہ ہوا۔لندن اور جرمنی کے دارالحکومت برلن میں بھی روسی سفارتخانےکے باہر مظاہرے کیے گئے۔ناولنی کی پراسرار موت پربرطانیہ نے روسی سفارتخانے سے جواب طلب کر لیا۔برطانوی وزارت خارجہ نے کہا کہ ناولنی کی موت کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہیے اور اس کی موت کا ذمہ دار پیوتن کو ٹھہرانا چاہیے۔برطانیہکے وزیر اعظم رشی سونک نے کہا کہ ناولنی روسی جمہوریت کےسب سے پرجوش وکیل تھے جبکہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ آج کے روس میں آزاد روحوں کو موت کی سزا دی جاتی ہے۔جرمن چانسلراولاف شولز نے کہا کہ ناولنی نے اپنی ہمت کی قیمت اپنی جان دےکر اداکی ہے جبکہ یواین سیکرٹری جنرل گوتیرس کا کہنا تھا کہ روسی صدرکے ناقد ناولنی کی موت پر صدمے میں ہوں، الیکسی کی موت کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔اس کے علاوہ یورپی یونین کمیشن کے صدر کا کہنا تھا کہ ناولنی کو صدرپیوٹن اور ان کی حکومت نے بتدریج قتل کر دیا۔امریکا کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ روس کے اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی کی موت کے ذمہ دار صدر ولادیمیر پیوٹن ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن کا جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ روسی صدر پیوٹن کی کرپشن ، تشدد اور غلط کاموں کے خلاف آواز اٹھانے والے بہادر اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی کی موت پر حیرت نہیں ہوئی بلکہ غصہ ہے۔ الیکسی ناوالنی کی موت کے ذمہ دار صدر پیوٹن ہیں۔اپوزیشن لیڈر الیکسی ناوالنی صدر ولادیمیر پیوٹن کے سخت ناقد تھے اور روسی صدر پر تنقید کے باعث جیل میں سزا کاٹ رہے تھے جہاں وہ گزشتہ روز پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں