حکومت کا پانی کی تقسیم اور چوری روکنے کیلئے سیٹلائٹ مانیٹرنگ کا نیا نظام نصب کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (صباح نیوز)وفاقی حکومت نے پاکستان میں دستیاب پانی کو منصفانہ انداز میں صوبوں میں تقسیم کرنے اور پانی کی چوری روکنے کیلئے سیٹلائٹ مانیٹرنگ کا نیا نظام نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس ضمن میں قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی(ایکنک)اپنے گزشتہ اجلاس میں ملک کے27مقامات پر سیٹلائٹ مانیٹرنگ کیلئے23ارب 83کروڑ47لاکھ روپے کے ایک نظرثانی شدہ تخمینہ کی منطوری دے گی، ماضی میں ملک میں 24مقامات پر ٹیلی میٹری سسٹم نصب تھا اور ان مقامات پر صوبوں کی رائے کی روشنی میں 3مقامات کا اضافہ کر کے نئے پلان کے تحت27مقامات پر سیٹلائئٹ مانیٹرنگ کیلئے ٹیلی میٹری سسٹم نصب کیا جائے گا انڈس بیسن ایریگیشن سسٹم پاکستان کی زرعی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتی ہے جس میں فصلیں، مویشی پانی، ماہی گیری، پولٹری اور فس فارمنگ، اور جنگلات شامل ہیں جو پاکستانی معیشت، جی ڈی پی کے18.5فیصد ہے اور پاکستان کی 38.5فیصد لیبر فورس کو روزگار کی فراہمی کا ذریعہ ہے، انڈس بیسن ایریگیشن سسٹم دنیا کے چندبڑے ہائیڈرالک آبپاشی کے نظا موں میں سے ایک ہے ،جیسے پاکستان نے کئی دہا ئیوں کے دوران تعمیر کیا ہے آج جس کی تخمینہ لاگت کے مطابق300ارب ڈالر کے قریب ہے جس میں دو بڑے ڈیم جن میں تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم، 16بیراج، 2ہیڈ ورکس، 12انٹر ریور کینالز، 45کینال ایریگیشن سسٹم پر مشتمل جو پاکستان میں ایک کروڑ70لاکھ مربع ایکڑ فٹ کو سیراب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے،پاکستان میں پانی کی تقسیم کا 191کا معاہدہ تاریخی دستاویز تسلیم کیا جاتا ہے جو21مارچ 1991 سے قابل عمل ہے جس کے تحت صوبوں میں پانی تقسیم کیا جاتا ہے اس معاہدے پر عمل درآمد کیلئے انڈس ریور سسٹم کے قیام کیلئے انڈس ریور سسٹم ایکٹ 1992 پارلیمنٹ سے منطور کروایا گیا، پانی کی چوری اور پانی کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کیلئے صوبوں کی شکایات کے ازلہ کیلئے2004میں پہلی بار انڈس ریور سسٹم کے24مقامات پر54لاکھ ڈالر لی مالیت سے ٹیلی میٹری سسٹم نصب کیا گیا،پاکستان کی امداد کیلئے عالمی سطح پر بننے والے فرینڈ آف ڈیموکریٹک پاکستان(ایس او ڈی پی)نے سال2012میں پاکستان کو اس پرانے اور آﺅٹ ڈیٹ ہو جانے والی پانی کی سیٹلائٹ مانیٹرنگ کے ٹیلی میٹری سسٹم کو آج کے جدید ٹیلی میٹری سسٹم سے تبدیل کرنے کی سفارش کی تھی جس کی روشنی میں یہ سسٹم نصب کیا گیا لیکن اس کے چلائے جانے پر ایک بار پھر صوبوں کے اعتراضات سامنے آئے جن کی روشنی میں نیشنل واٹر پالیسی2018کی منظوری دیتے ہوئے پاکستان میں از خود سیٹلائٹ مانیٹرنگ کا نظام متعارف کرانے کی سفارش کی گئی تھی تاکہ اس سسٹم کا لنک چاروں صوبوں کے اور وفاق میں ارسا ہیڈ کوارٹر کے پاس ہو اور وفاق اور صوبوں کے ماہرین سیٹلائٹ کے ذریعے آن لائن خود ہی اپنے مقامات پر بیٹھ کر پانی کی تقسیم کے نظام کی مانیٹرنگ کر سکیں ،اس اہم فیصلہ کی روشنی مین وفاقی حکومت نے دو سال قبل ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کیلئے جو تخمینہ لاگت بنایا تھا وہ ملک میں کورونا کی وبا کے پھیلاﺅکے بعد سرد خانے کی نذر ہو گیا اور اس کے بعد اب ایک بار پھر پاکستان میں جدید ترین ٹیلی میٹری سسٹم کی تنصیب کا فیصلہ کیا گیا جس کیلئے ایکنک کے اجلاس میں نئے تخمینہ لاگت 23ارب 83کروڑ47لاکھ روپے کی منظوری دے دی گئی ۔


