نیشنل ہائی وے این 40 پر کسٹم و دیگر غیر ضروری چیک پوسٹوں کو ختم کیا جائے، بس ٹرانسپورٹ یونین

کوئٹہ (یو این اے) چیئرمین مشترکہ بلوچستان بس ٹرانسپورٹ فیڈریشن محمود خان بادینی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی تمام نیشنل ہائی ویز خصوصاً کوئٹہ تفتان روٹ این 40 پر درجنوں اینٹی اسمگلنگ کے نام سے مختلف اداروں کسٹمز وغیرہ کی چیک پوسٹوں پبلک ٹرانسپورٹ کو بار بار چیکنگ کے نام پر روکا جاتا ہے، یہ اذیت ناک سلسلہ عرصہ درازسے جاری تھا کہ سابق حکمرانوں نے آٹا چینی کی اسمگلنگ روکنے کیلئے مزید نصف درجن جوائنٹ چیک پوسٹوں کو این چالیس پر وقتی طور کیلئے بنائی تھیں جوتا حال قائم ہیں جو متعلقہ علاقوں کے عوام پبلک بس ٹرانسپورٹ کےلئے اذیت کا سبب تھے اور ہیں لہٰذا موجودہ حکومت وزیراعلیٰ بلوچستان وزیراعظم پاکستان ان جگہ جگہ قائم اینٹی اسمگلنگ چیک پوسٹوں کو نیشنل ہائی وے این چالیس سے ہٹاکر ان فورسزز اور اداروں کو خطر ناک ممنوعہ ایشیا کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بارڈرز زیرو پوائنٹس پر منتقل کریں اور نیشنل ہائی وے پر صرف ایک چیک پوسٹ کافی ہے ایک روٹ کے ایک گاڑی کوکسٹم کے ایک سے زیادہ چیک پوسٹوں پر روکنا کیا پچھلے تمام چیک پوسٹوں پر عدم اعتماد نہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز کے اس دیرینہ مطالبہ اور جائز بیانیے پر کہ ایک روٹ کے ایک گاڑی کو کسٹم والے اس کے دورانیہ سفر میں اینٹی اسمگلنگ کے بہانہ میں صرف ایک بار چیک کریں بلاوجہ دیگر چیک پوسٹوں پر ان ٹرانسپورٹرز کو تنگ کر نے کا سلسلہ ختم کیا جائے،پرچون سامان اشیا خورونوش غیر ممنوعہ ایشیا لانےوالی تفتان سے آنیوالی گاڑیوں کو ریلف دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں